روس کی سب سے بڑی بٹ کوائن مائننگ فرم کے بانی کو ٹیکس چوری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ان کی کمپنی کو دیوالیہ ہونے کے خدشات لاحق ہیں۔ کمپنی پر توانائی کے بلوں کے بوجھ، ریگولیٹری پابندیوں اور اندرونی مسائل کا بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال کے درمیان، این پلس کی ایک ذیلی کمپنی نے اس کرپٹو کرنسی مائننگ فرم کے خلاف دیوالیہ پن کا دعویٰ دائر کیا ہے۔
کرپٹو کرنسی مائننگ، خاص طور پر بٹ کوائن کی مائننگ، توانائی کے انتہائی زیادہ استعمال کی وجہ سے دنیا بھر میں متنازع رہی ہے۔ روس میں بھی اس صنعت کو توانائی کے بحران اور سرکاری نگرانی کا سامنا ہے۔ این پلس گروپ، جو کہ روس کی توانائی کی بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے اپنی ذیلی کمپنی کے ذریعے اس مائننگ فرم پر مالی مشکلات کی بنیاد پر دیوالیہ پن کی درخواست دی ہے۔ یہ اقدام کمپنی کی مالی مشکلات اور توانائی کے بلوں میں تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔
روسی حکام کی جانب سے مائننگ سیکٹر پر کڑی نگرانی بڑھائی گئی ہے، کیونکہ کرپٹو کرنسی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ مالی جرائم اور ٹیکس چوری کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں، کمپنی کے بانی کی گرفتاری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومتی ادارے کرپٹو کرنسی انڈسٹری میں شفافیت اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے سخت اقدامات کر رہے ہیں۔
اگرچہ کمپنی کی صورتحال غیر مستحکم ہے، کرپٹو کرنسی کی عالمی مارکیٹ میں مائننگ فرمز کا کردار اہم رہتا ہے۔ روس کی اس بڑی مائننگ فرم کے مسائل سے نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی کرپٹو کرنسی کی مائننگ انڈسٹری پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئندہ ممکنہ قانونی کاروائیاں اور کمپنی کی مالی صورتحال کا حل کرپٹو کرنسی مارکیٹ کے رجحانات کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk