رِپل کے براد گارلنگ ہاؤس کے مطابق کلیرٹی بل اپریل تک منظور ہونے کے 90 فیصد امکانات

زبان کا انتخاب

رِپل کے سی ای او براد گارلنگ ہاؤس نے کہا ہے کہ کلیرٹی بل جو امریکی کانگریس میں زیرِ غور ہے، اپریل کے مہینے تک منظور ہونے کے 90 فیصد امکانات رکھتے ہیں۔ یہ بل کرپٹو کرنسی اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کی قانونی حیثیت کو واضح کرے گا کہ کون سے اثاثے سیکیورٹیز قوانین کے تحت آتے ہیں اور کون سے کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کے تحت آکر ریگولیٹ ہوں گے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں قانونی وضاحت کی ہمیشہ کمی رہی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو ریگولیٹری خدشات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رِپل، جو اپنی کرپٹو کرنسی XRP کے ذریعے معروف ہے، خاص طور پر اس بل کی منظوری کے منتظر ہے کیونکہ اس کے تحت XRP اور اس جیسے دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کی قانونی حیثیت کا تعین ہو سکے گا۔ اس سے مارکیٹ میں شفافیت بڑھے گی اور سرمایہ کاری کے لئے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
کلیرٹی بل کا مقصد کرپٹو کرنسی کے مختلف پہلوؤں کو دو بڑے ریگولیٹری اداروں کے درمیان تقسیم کرنا ہے: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) اور کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن۔ اس قانون سازی سے یہ واضح ہوگا کہ کون سا ڈیجیٹل اثاثہ سیکیورٹی کے طور پر شمار ہوتا ہے اور کون سا کموڈیٹی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس فیصلے سے کرپٹو مارکیٹ میں مبہم صورتحال ختم ہوگی اور قانونی پیچیدگیوں میں کمی آئے گی۔
اگرچہ اس بل کی منظوری سے کرپٹو کرنسی کے شعبے کو ایک نیا قانونی ڈھانچہ ملے گا، تاہم بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قانونی اور تکنیکی چیلنجز ابھی باقی ہیں جن پر توجہ دینا ضروری ہوگی۔ تاہم رِپل کی جانب سے اس قانون کی منظوری کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو امریکی کرپٹو مارکیٹ کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
کلیرٹی بل کی ممکنہ منظوری سے نہ صرف رِپل بلکہ مجموعی طور پر کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت میں بہتری آئے گی، جس سے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور اس صنعت کی ترقی کو تقویت ملے گی۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے