ریپل نے اپنے نئے پلیٹ فارم “ریپل ٹریژری” کا اعلان کیا ہے جو کارپوریٹ فنانس ٹیموں کے لیے نقدی اور ڈیجیٹل اثاثوں کو مربوط کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم تقریباً 13,000 بینکوں کی خدمات میں استعمال کے لیے دستیاب ہوگا۔ NS3.AI کے مطابق، ریپل ٹریژری RLUSD اسٹیل کوائن کا استعمال کرتا ہے جو فوری یا نزدیک فوری تصفیہ ممکن بناتا ہے۔ اس اقدام سے ادارہ جاتی ادائیگیوں میں XRP کے بطور برج کرنسی کردار کے مستقبل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
ریپل ایک معروف بلاک چین کمپنی ہے جس کا مقصد عالمی مالیاتی نظام میں تیزی اور شفافیت لانا ہے۔ اس کے XRP ٹوکن کو خاص طور پر بین الاقوامی رقوم کی منتقلی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ روایتی مالیاتی نظام کی پیچیدگیوں اور تاخیر کو کم کیا جا سکے۔ RLUSD ایک استحکام والے کوائن کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد قیمت کی غیر یقینی صورتحال کو کم کرتے ہوئے تیزی سے لین دین کو ممکن بنانا ہے۔
ریپل ٹریژری کے کامیاب نفاذ سے RLUSD کی استعمال میں اضافہ متوقع ہے جبکہ XRP کا کردار ممکنہ طور پر مخصوص برج اثاثہ راہداریوں تک محدود ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ادارہ جاتی ادائیگیوں میں XRP کی جگہ زیادہ مستحکم اور فوری تصفیہ کرنے والے اثاثے لے سکتے ہیں۔ تاہم، یہ تبدیلی مالیاتی مارکیٹ اور ریپل کے ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ریپل کے اس اقدام سے مالیاتی اداروں کو ڈیجیٹل اور روایتی اثاثوں کے درمیان ربط بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جس سے مالیاتی لین دین کی رفتار اور شفافیت میں اضافہ ہوگا۔ مستقبل میں یہ دیکھا جائے گا کہ دیگر مالیاتی ادارے اور بینک اس پلیٹ فارم کو کس حد تک اپناتے ہیں اور اس کا عالمی مالیاتی نظام پر کیا اثر پڑتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance