فِن ٹیک کمپنی ریوالوٹ نے امریکہ میں بینکاری خدمات کے لیے کسی موجودہ بینک کے ساتھ انضمام کا منصوبہ ختم کرتے ہوئے خود ایک علیحدہ بینکاری لائسنس حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے تحت نیا بینکاری لائسنس حاصل کرنا موجودہ بینک کو خریدنے کی نسبت زیادہ تیز اور آسان ہوگا، جس سے انہیں فزیکل برانچز قائم کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔
ریوالوٹ ایک معروف فِن ٹیک کمپنی ہے جو عالمی سطح پر ڈیجیٹل بینکاری اور مالیاتی خدمات فراہم کرتی ہے۔ اس کا مقصد صارفین کو آسان اور کم خرچ بینکاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ امریکہ میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے کے لیے، کمپنی نے پہلے کسی امریکی بینک کے ساتھ انضمام کے ذریعے لائسنس حاصل کرنے کا راستہ اپنانے کا سوچا تھا، لیکن اب نئی حکمت عملی کے تحت خود ایک نیا “ڈی نووو” بینک قائم کرنا چاہتی ہے۔ “ڈی نووو” لائسنس کا مطلب ہے کہ کمپنی کو مکمل طور پر نئی بینکنگ ادارہ کے طور پر منظوری ملے گی، بجائے کسی پہلے سے موجود بینک کو خریدنے کے۔
یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ میں بینکاری کے نظام میں سخت قواعد و ضوابط موجود ہیں، اور فزیکل برانچز قائم کرنا اور ان کا انتظام ایک مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے۔ ریوالوٹ کا مقصد جدید اور مکمل ڈیجیٹل بینکنگ ماڈل متعارف کروانا ہے جو صارفین کو آن لائن بینکنگ کی سہولیات فراہم کرے بغیر جغرافیائی پابندیوں کے۔ اس اقدام سے کمپنی کو مارکیٹ میں تیزی سے داخلے اور نئے صارفین تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔
ریوالوٹ کے اس فیصلے سے امریکی فِن ٹیک مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنے کا امکان ہے، خاص طور پر وہ کمپنیاں جو ڈیجیٹل بینکنگ کے ذریعے اپنی خدمات کو پھیلانا چاہتی ہیں۔ تاہم، نئے لائسنس کی منظوری اور اس کے تحت کام شروع کرنے میں قانونی اور انتظامی چیلنجز بھی درپیش ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود، کمپنی کی یہ حکمت عملی فِن ٹیک شعبے میں ایک نیا اور زیادہ لچکدار طریقہ کار ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk