بٹ وائز ایسٹ مینجمنٹ کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹ ہوگن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ روایتی مالیاتی سرمایہ کاروں کے درمیان بٹ کوائن کو اپنانے میں سب سے بڑا رکاوٹ اس کی شہرت سے متعلق خطرات ہیں۔ میٹ ہوگن کے مطابق، بہت سے پیشہ ورانہ سرمایہ کار اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے باعث بٹ کوائن میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ اس وجہ سے اب تک صرف وہی سرمایہ کار بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جنہیں اس کرپٹو کرنسی پر مکمل اعتماد ہے۔
بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جو بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور اسے مرکزی بینک یا حکومت کی مداخلت کے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کی غیر مرکزی نوعیت اور بعض اوقات مارکیٹ میں اس کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ نے روایتی مالیاتی اداروں میں اسے ایک خطرناک سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، بٹ کوائن کی ساکھ پر منفی اثرات پڑتے رہے ہیں، جن میں اسے منی لانڈرنگ، غیر قانونی لین دین اور ہیکنگ جیسے مسائل سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔
بٹ کوائن کے حوالے سے یہ خدشات روایتی سرمایہ کاروں کو محتاط بناتے ہیں اور وہ اپنی پیشہ ورانہ شہرت کو محفوظ رکھنے کے لئے اس میں سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بٹ کوائن کی مارکیٹ میں شرکت زیادہ تر ان افراد تک محدود ہے جو کرپٹو کرنسی کی بنیادی ٹیکنالوجی اور اس کے ممکنہ فوائد پر قوی یقین رکھتے ہیں۔
مستقبل میں، اگر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کی قانونی اور مالیاتی فریم ورک میں واضح بہتری آئے اور ان کے استعمال کے حوالے سے ریگولیٹری تحفظات دور ہوں تو روایتی مالیاتی ادارے بھی اس میں سرمایہ کاری کے لئے زیادہ آمادہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اب بھی بٹ کوائن کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے کام جاری ہے تاکہ یہ وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل کر سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance