امریکی ریئل اسٹیٹ انڈسٹری کے معروف ارب پتی سرمایہ کار بیری اسٹیرن لائٹ کی قیادت میں 125 ارب ڈالر مالیت کی کمپنی نے اپنے اثاثوں کو بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹوکنائز کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاروں کو رئیل اسٹیٹ میں براہ راست اور آسان سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنا ہے، جس سے روایتی سرمایہ کاری کے پیچیدہ عمل اور درمیانی فریقین کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ تاہم، امریکی مالیاتی ضابطہ بندی اور قوانین نے اس منصوبے کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے کمپنی اس قدم کو آگے بڑھانے میں تاخیر کا شکار ہے۔
ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں اثاثوں کی ٹوکنائزیشن ایک نیا رجحان ہے جس میں جائیداد کے مالکان اپنے اثاثوں کو ڈیجیٹل ٹوکنز کی صورت میں تقسیم کرتے ہیں، جو بلاک چین پر ریکارڈ ہوتے ہیں۔ اس طرح چھوٹے سرمایہ کار بھی کم رقم سے جائیداد میں شراکت دار بن سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں شفافیت اور لیکویڈیٹی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کئی سرمایہ کار اور کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ سرمایہ کاری کے روایتی طریقوں کو جدید اور مؤثر بنایا جا سکے۔
تاہم، امریکہ میں سیکیورٹیز اور ایکسچینج کمیشن (SEC) سمیت دیگر ریگولیٹری ادارے اس سلسلے میں سخت نگرانی رکھتے ہیں کیونکہ اثاثوں کی ٹوکنائزیشن مالیاتی قوانین، سرمایہ کاروں کے حقوق اور فراڈ سے بچاؤ کے حوالے سے پیچیدہ مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اس قانونی پیچیدگی نے اسٹیرن لائٹ کی کمپنی کو اپنے بلاک چین پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے سے روک دیا ہے، جس سے اس شعبے میں جدت کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی ضابطہ کار اس نئی ٹیکنالوجی کے لیے واضح اور سہل قوانین متعارف کروائیں تو رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کو نئی راہیں میسر آ سکتی ہیں۔ فی الوقت، اسٹیرن لائٹ اور ان کی کمپنی اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں تاکہ مستقبل میں بلاک چین کے ذریعے اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کو ممکن بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk