رے ڈیلیو کا کہنا ہے کہ “سونا ہی واحد سونا ہے” جبکہ بٹ کوائن نے سالوں کی بدترین جغرافیائی سیاسی بحران کے دوران سونے کو پیچھے چھوڑ دیا

زبان کا انتخاب

مشہور سرمایہ کار اور برج واٹر ایسوسی ایٹس کے بانی رے ڈیلیو نے بٹ کوائن کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر شہرت کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سونا ہی واحد حقیقی محفوظ سرمایہ ہے۔ یہ بیان اسی دن سامنے آیا جب عالمی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں تقریباً تین فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ بٹ کوائن کی قیمت میں ایک فیصد سے کم کمی ہوئی۔
یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب دنیا مختلف خطوں میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مالی غیر یقینی کے باعث سرمایہ کاروں کے رویے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ عام طور پر سونا عالمی بحرانوں اور مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کاروں کی پہلی پسند ہوتا ہے کیونکہ اسے محفوظ اور مستحکم اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں بٹ کوائن نے بھی ایک متبادل محفوظ پناہ گاہ کے طور پر خود کو منوانا شروع کیا ہے، خاص طور پر نوجوان سرمایہ کاروں میں۔
بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی ہے جسے مرکزی بینک یا حکومت کے بغیر چلایا جاتا ہے، اور یہ بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ اکثر مارکیٹ کے جذبات اور عالمی مالی حالات سے متاثر ہوتا ہے۔ رے ڈیلیو کی تنقید اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ روایتی سرمایہ کار ابھی بھی سونے کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں، جبکہ کرپٹو کرنسیاں ابھی بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں سمجھی جاتیں۔
مستقبل میں، اگر عالمی جغرافیائی سیاسی حالات مزید خراب ہوئے یا مالی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھی، تو سونے اور بٹ کوائن دونوں کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے یہ فیصلہ کرنا چیلنج ہو سکتا ہے کہ وہ کس اثاثے کو ترجیح دیں، خاص طور پر جب بٹ کوائن کی قیمت میں اچانک تبدیلیاں معمول کی بات ہیں۔ تاہم، رے ڈیلیو کی رائے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سونے کو ایک مستحکم اور قابل اعتماد اثاثہ سمجھتے ہیں، جبکہ بٹ کوائن کو ابھی بھی تجرباتی مرحلے میں قرار دیتے ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے