سوسائٹی جنرل نے ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سونے کی قیمتوں کو دوبارہ جائزہ لینے سے امریکہ کے قرضوں کے مسائل کا حل ممکن نہیں، البتہ اس سے مالی بیانات کی صورت بہتر ہوسکتی ہے۔ بینک کی توقع ہے کہ موسم بہار میں سرکاری سطح پر سونے کی خریداری میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
یہ رپورٹ اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اگرچہ سونا مالی بیانات کی ظاہری حالت کو بہتر بنا سکتا ہے، لیکن یہ امریکی حکومت کے بڑھتے ہوئے قرضوں کے بنیادی مسائل کا کوئی مستقل حل پیش نہیں کرتا۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے جس کا مجموعی قومی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور اس کے مالیاتی استحکام کے لیے مختلف حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔
سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے اور عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال میں اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ تاہم، صرف سونے کی قیمتوں کو بڑھا کر امریکی حکومت کی مالی مشکلات کو دور کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس، مجموعی مالی پالیسیوں اور قرضوں کی ادائیگی کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم رکھا جا سکے۔
اگلے چند ماہ میں سونے کی سرکاری خریداری میں ممکنہ اضافہ عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، لیکن اس کا امریکہ کے قرضوں پر براہ راست اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔ مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اپنے مالیاتی نظام کی بنیادوں کو مضبوط بنانے اور قرضوں کی پائیدار سطح پر قابو پانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔