بریکس ممالک نے COMEX مارکیٹ سے بڑی مقدار میں جسمانی چاندی نکالنا شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں اسٹاک میں کمی اور شنگھائی چاندی مارکیٹ کے مقابلے قیمتوں میں فرق بڑھ رہا ہے۔ اس وقت عالمی چاندی کی فراہمی میں تنگی پیدا ہو رہی ہے جس نے قیمتی دھاتوں کی تجارت پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دوران، جے پی مورگن نے چاندی کی اپنی ذخیرہ اندوزی میں خاموشی سے اضافہ کیا ہے، جو ممکنہ قیمتوں میں نمایاں اضافے کی توقع ظاہر کرتا ہے۔
COMEX، جو نیو یارک میں واقع ایک معروف قیمتی دھاتوں کا تبادلہ بازار ہے، عالمی سطح پر چاندی کی تجارت کا ایک اہم مرکز ہے۔ بریکس ممالک، جن میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، نے اپنی چاندی کی فزیکل ریزرو کو کم کرنا شروع کر کے اس مارکیٹ میں دستیاب چاندی کی مقدار کو محدود کر دیا ہے۔ اس حرکت سے نہ صرف COMEX پر ذخائر کم ہوئے ہیں بلکہ شنگھائی مارکیٹ کے ساتھ قیمتوں کا فرق بھی بڑھ گیا ہے، کیونکہ شنگھائی میں چاندی کی قیمتیں نسبتاً کم رہ گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، قریبی مستقبل میں چاندی کی فراہمی اور طلب کے درمیان فرق مزید بڑھ سکتا ہے، جس کی وجہ سے COMEX پر چاندی کی فراہمی میں مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ جے پی مورگن کی جانب سے کی گئی پیش گوئیوں کے مطابق، 2026 تک چاندی کی قیمت اوسطاً فی اونس 81 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو گزشتہ سال کی قیمت سے تقریباً دوگنی ہے۔ اس صورت حال کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ سرمایہ کار چاندی میں سرمایہ کاری کو بڑھا دیں گے اور اس کے نتیجے میں قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہو گا۔
چاندی کی عالمی مارکیٹ میں یہ تبدیلیاں صنعتی استعمال، سرمایہ کاری کی ترجیحات اور عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ چونکہ چاندی کا استعمال الیکٹرانکس، فوٹوگرافی اور دیگر صنعتی شعبوں میں بڑھ رہا ہے، اس لیے اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جو قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance