پولیمارکیٹ بلڈرز نے گزشتہ ہفتے میں 125 ملین ڈالر کے تجارتی حجم کی اطلاع دی ہے، جو مسلسل تیسری ہفتے ہے جب انہوں نے 100 ملین ڈالر کے ہدف کو عبور کیا ہے۔ اس دوران ہفتہ وار تجارتی ایڈریسز کی تعداد بھی دو ہفتوں سے زائد 10,000 رہی ہے، جو اس شعبے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور فعالیت کی علامت ہے۔
بیٹ موار مارکیٹ میں مجموعی تجارتی حجم کے لحاظ سے سرکردہ ہے، جس نے 550 ملین ڈالر سے زائد کا حجم حاصل کر کے 50.6 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ، پولیٹریڈرپرو، پولی کاپ، اسٹینڈ، پولیمٹریڈ، اور پریڈی ٹریڈ جیسے دیگر پلیٹ فارمز نے بھی 50 ملین ڈالر سے زائد کے تجارتی حجم کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
تجارتی ایڈریسز کے حوالے سے، پولیمٹریڈ پہلا بلڈر بن گیا ہے جس نے 10,000 سے زائد ٹریڈرز کو عبور کیا ہے اور اپنی فیس کا استعمال ٹوکن بائی بیکس کے لیے کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، پولی گن، پولی کیول، پولی کاپ، بیسڈ، رینبو، چانس، بیٹ موار، اور پولی بوٹ جیسے دیگر بلڈرز نے بھی 1,000 سے زیادہ تجارتی پتوں کی تعداد حاصل کی ہے۔
پولیمارکیٹ بلڈرز ایک نئے دور کے متبادل مالیاتی پلیٹ فارمز کے طور پر ابھر رہے ہیں جو بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر صارفین کو زیادہ شفاف اور مؤثر طریقے سے مالیاتی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس شعبے میں مسلسل اضافہ، بڑھتی ہوئی تجارتی حجم اور صارفین کی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کی دنیا میں نئی راہیں کھل رہی ہیں۔
اگرچہ اس بڑھوتری سے سرمایہ کاروں کو مواقع میسر آ رہے ہیں، مگر مارکیٹ کی غیر مستحکم نوعیت اور تکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے خطرات بھی موجود ہیں۔ مستقبل میں، ان پلیٹ فارمز کی کارکردگی اور قانونی و تکنیکی چیلنجز کے حل پر ان کی کامیابی کا انحصار ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance