سونے، چاندی اور تانبے کی قیمتوں میں اچانک کمی نے بلاک چین پر مبنی میٹل کلونز کی مارکیٹ میں شدید مندی کا سبب بنائی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو 120 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ یہ میٹل کلونز ڈیجیٹل ٹوکنز کی صورت میں ہوتے ہیں جو روایتی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کی نقل کرتے ہیں اور انہیں بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریڈ کیا جاتا ہے۔
سال بھر دھاتیں سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم موضوع رہی ہیں، خاص طور پر سونا، چاندی اور تانبہ جو عالمی معیشت میں تحفظ اور استحکام کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں ان دھاتوں کی قیمتوں میں مندی نے میٹل کلونز کے صارفین اور سرمایہ کاروں کے لیے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ اس کے برعکس، بٹ کوائن نے اپنی قیمت میں نسبتاً آزادانہ تجارت جاری رکھی ہے، جو اس کے بطور ایک آزاد رسک اثاثے کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
بلاک چین میٹل کلونز کی مارکیٹ میں یہ گراوٹ سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور مستقبل میں اس شعبے میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان پیدا کر سکتی ہے۔ چونکہ یہ کلونز روایتی دھاتوں کی قیمتوں پر منحصر ہوتے ہیں، اس لیے عالمی اقتصادی عوامل، جیسا کہ افراط زر، سیاسی عدم استحکام، اور صنعتی طلب، ان کی قیمتوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ دھاتوں سے منسلک ڈیجیٹل اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتے وقت محتاط رہیں اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دھیان میں رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بٹ کوائن جیسے آزاد ڈیجیٹل کرپٹو کرنسیوں کی تجارت میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ یہ زیادہ خودمختار اور متنوع سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk