سوئٹزرلینڈ کے شہر سینٹ مورٹس میں ہونے والی کرپٹو فنانس کانفرنس میں ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرپٹو کمپنیوں کے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے حوالے سے امیدیں کم ہو رہی ہیں کیونکہ روایتی مالیاتی ادارے اس صنعت میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 2025 میں 11 کرپٹو کمپنیوں نے آئی پی اوز کے ذریعے تقریباً پندرہ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری حاصل کی تھی، جو کہ ایک ریکارڈ سال تھا، مگر اس کے بعد مارکیٹ کا رجحان بدلنے لگا ہے۔
رپورٹ میں شامل 242 شرکاء میں سے 107 نے اس بات کا اظہار کیا کہ “روایتی مالیاتی ادارے کرپٹو انڈسٹری پر قبضہ کر رہے ہیں”، جو پچھلے سال کے مقابلے میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔ اس تبدیلی کے باعث سرمایہ کاری کے مواقع میں کمی اور مارکیٹ میں انضمام کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ لیکویڈیٹی کی کمی کو اب سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، جو کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کم کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
اس کے باوجود، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں کرپٹو کرنسیوں کے لیے ریگولیٹری ماحول بہتر ہو رہا ہے۔ امریکہ نے ریگولیٹری دوستانہ ممالک کی فہرست میں اپنی پوزیشن بہتر کر کے دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات نے اپنی سربراہی برقرار رکھی ہے۔ ان بہتریوں کے باوجود، کرپٹو کمپنیوں کی فہرست بندی کے حوالے سے جوش و خروش میں کمی آ رہی ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اور صنعت کے دیگر فریق روایتی مالیاتی اداروں کے بڑھتے اثر اور مارکیٹ کے بڑھتے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط ہو رہے ہیں۔ مستقبل میں یہ ممکن ہے کہ کرپٹو کے آئی پی اوز میں مزید کمی آئے اور مارکیٹ میں انضمام کا عمل تیز ہو، خاص طور پر ایسے وقت میں جب لیکویڈیٹی کی فراہمی محدود ہوتی جا رہی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance