حالیہ اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ویڈیو کالز کا استعمال کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی کمپنیوں کے ملازمین کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ ہیکرز اپنے آپ کو قابل اعتماد رابطوں کے طور پر ظاہر کر کے کرپٹو ورکرز کو مالویئر انسٹال کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے کمپنیوں کے حساس ڈیٹا اور مالی وسائل کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
دیپ فیک ٹیکنالوجی ایک جدید طریقہ ہے جس میں کسی شخص کی تصویر یا ویڈیو کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کر کے اسے کسی اور کے چہرے یا آواز کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے ہیکرز نہ صرف جعلی ویڈیو کالز کر سکتے ہیں بلکہ اپنی بات چیت کو بھی حقیقی دکھا کر متاثرین کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سیکورٹی ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ یہ ڈیجیٹل اثاثے ہیکرز کے لیے خاص حد تک پرکشش ہوتے ہیں۔ شمالی کوریا پر عالمی سطح پر سائبر جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں کرپٹو کرنسیز چوری کرنا اور مالیاتی نظام کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ ایسے حملے کرپٹو مارکیٹ میں عدم استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو اپنے سیکیورٹی نظام کو مضبوط کرنا ہو گا اور ملازمین کو جدید دھوکہ دہی کی تکنیکوں کے بارے میں آگاہی دینی ہو گی تاکہ وہ اس قسم کے حملوں سے بچ سکیں۔ مستقبل میں اگر اس طرح کے حملے جاری رہے تو کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں مزید مالی نقصان کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
کرپٹو کرنسیز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ساتھ سائبر سیکیورٹی کے چیلنجز بھی بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے لیے صنعت کو مسلسل تیار رہنے اور حفاظتی تدابیر کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt