نیوزی لینڈ کے وزیراعظم نے ایران کی جوہری پالیسی پر دیے گئے بیانات کی وضاحت کر دی

زبان کا انتخاب

نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے ایران کی جوہری صلاحیتوں کے حوالے سے اپنے سابقہ بیان کی وضاحت کی ہے اور اعتراف کیا ہے کہ ان سے کچھ غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی۔ انہوں نے اپنی مرکز-دائیں حکومت کی اس پالیسی پر زور دیا ہے جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔ ان کے بیانات نے مشرق وسطیٰ کے موجودہ تنازعے پر ان کی انتظامیہ کے موقف کو کچھ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
لکسن کی وضاحت کا مقصد نیوزی لینڈ کی خارجہ پالیسی کے متعلق کسی بھی طرح کی غلط فہمی کو دور کرنا ہے تاکہ عالمی برادری میں ان کے ملک کی پوزیشن واضح ہو سکے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت نے ہمیشہ عالمی سلامتی اور جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے حوالے سے اصولی موقف اختیار کیا ہے اور اس تنازعے میں پرامن حل کی حمایت کی ہے۔
ایران کی جوہری پروگرام پر عالمی تشویش کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس کی وجہ سے خطے میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ کے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم رہے۔ نیوزی لینڈ کا یہ موقف اس عالمی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی غیر پھیلاؤ کو یقینی بنانا ہے۔
اس وضاحتی بیان سے توقع کی جا رہی ہے کہ نیوزی لینڈ کی حکومت خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کو مزید واضح کرے گی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے گی تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں عالمی تشویش کا حل نکالا جا سکے۔ اس تناظر میں، نیوزی لینڈ کی کوشش ہوگی کہ وہ تنازعے کے پرامن اور سفارتی حل کی حمایت جاری رکھے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش