بلیک راک کے بٹ کوائن ای ٹی ایف میں ہانگ کانگ کے پراسرار سرمایہ کار خاموشی توڑنے لگے

زبان کا انتخاب

ایک پراسرار ہانگ کانگ سرمایہ کار جس نے بلیک راک کے بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈ (ای ٹی ایف) میں ۴۳۶ ملین ڈالر کی نمایاں سرمایہ کاری کی تھی، نے اب اپنی سرمایہ کاری کے بارے میں وضاحت دی ہے۔ لاوروئر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سرمایہ کاری “ذاتی سرمایہ کاری کے قوی یقین کی عکاسی کرتی ہے”۔ دستاویزات کے مطابق یہ سرمایہ کاری ایک مین لینڈ چین کے پاسپورٹ ہولڈر سے منسلک ہے، جس نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بلیک راک، دنیا کی سب سے بڑی اثاثہ مینجمنٹ کمپنیوں میں سے ایک، نے حال ہی میں بٹ کوائن ای ٹی ایف متعارف کرایا تھا، جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو بٹ کوائن میں براہ راست سرمایہ کاری کے بغیر کرپٹو کرنسی کے فوائد حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس ای ٹی ایف نے مالی منڈیوں میں کافی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ یہ بٹ کوائن کو روایتی سرمایہ کاری کے دائرے میں لانے کی ایک کوشش ہے۔
اس سرمایہ کاری کی نوعیت اور حجم نے مارکیٹ میں کئی سوالات پیدا کر دیے تھے، خاص طور پر اس لیے کہ ہانگ کانگ اور چین کی حکومتیں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے سخت پالیسیز رکھتی ہیں۔ اس صورتحال نے تجزیہ کاروں میں خدشات بھی بڑھا دیے کہ کسی بھی طرح کا غیر متوقع سیاسی یا قانونی دباؤ اس سرمایہ کاری پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اگرچہ اب اس سرمایہ کار نے اپنی پوزیشن کی وضاحت کر دی ہے، مگر کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ غیر یقینی صورتحال رہتی ہے، خاص طور پر جب بات بڑے سرمایہ کاروں کی ہو۔ آئندہ دوران میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بٹ کوائن ای ٹی ایف کی مارکیٹ میں کیا کارکردگی ہوتی ہے اور کیا اس قسم کی بڑی سرمایہ کاریوں سے کرپٹو مارکیٹ میں استحکام آئے گا یا مزید اتار چڑھاؤ پیدا ہوگا۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے