بٹ کوائن کی قیمت میں زبردست کمی، مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان

زبان کا انتخاب

جمعرات کو کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھی گئی جہاں بٹ کوائن سمیت دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں 15 سے 20 فیصد تک گر گئیں۔ اس دن کو کرپٹو تاریخ کے بدترین دنوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد معمولی بحالی کا رجحان ظاہر ہوا۔ بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 60 ہزار ڈالر کی سطح تک گر گئی، جو کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی قیمتوں میں نمایاں کمی ہے۔
اس مندی کا تعلق حالیہ سیاسی اور اقتصادی عوامل سے جوڑا جا رہا ہے، خاص طور پر امریکہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان بازیوں کے بعد مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے۔ بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے معروف اور قدیم ڈیجیٹل کرنسی ہے، عام طور پر سرمایہ کاروں کے جذبات اور عالمی معاشی حالات سے متاثر ہوتی ہے۔
کرپٹو مارکیٹ میں یہ گراوٹ اس وقت سامنے آئی جب سرمایہ کار خوفزدہ ہو کر اپنے اثاثے فروخت کرنے لگے، جس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی کم ہوئی اور قیمتیں مزید نیچے آئیں۔ اس کے علاوہ، دیگر بڑے کرپٹوکرنسیز جیسے ایتھیریم اور لائٹ کوائن میں بھی اسی طرح کی گراوٹ دیکھی گئی، جس سے مجموعی مارکیٹ کی صورتحال متاثر ہوئی۔
کرپٹو کرنسیز کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے، لیکن اس طرح کی شدید گراوٹ سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مارکیٹ کی سمت کا تعین عالمی اقتصادی حالات، حکومتوں کی پالیسیز، اور کرپٹو کرنسیز کے حوالے سے قانونی فریم ورک پر منحصر ہوگا۔
اس کے باوجود، کرپٹو کرنسیز کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور مالیاتی دنیا میں ان کا کردار بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار انہیں طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم، کرپٹو مارکیٹ کی غیر مستحکم فطرت کے باعث سرمایہ کاری کرتے وقت احتیاط برتنا ضروری ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش