امریکی سافٹ ویئر کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کی مالی معاونت کے لیے کرپٹو کرنسی میں لاکھوں ڈالرز کی رقم، امریکی خزانہ کی نئی پابندیاں

زبان کا انتخاب

امریکی وزارت خزانہ نے نئی پابندیاں عائد کی ہیں جن کے تحت ایک آسٹریلوی شہری پر الزام ہے کہ اس نے امریکی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال ہونے والے سائبر ہتھیاروں کی فروخت کے لیے کرپٹو کرنسی میں لاکھوں ڈالرز کی رقم حاصل کی۔ ان ہتھیاروں کو روسی کمپنی “آپریشن زیرو” کو بیچا گیا، جو مبینہ طور پر امریکی سافٹ ویئر کو نشانہ بنانے والی مہمات میں ملوث ہے۔
یہ پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ریاستیں اپنی حساس انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ امریکی حکومت نے خاص طور پر ان ٹولز کی فروخت کو روکنے کی کوشش کی ہے جو ان کے دفاعی نظام اور دیگر اہم سافٹ ویئر کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی کو اس قسم کی غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں استعمال کرنا ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے کیونکہ یہ لین دین کو زیادہ گمنام اور ٹریک کرنا مشکل بناتا ہے۔
“آپریشن زیرو” جیسی کمپنیوں پر اس طرح کے ہتھیار فراہم کرنے کا الزام عالمی سطح پر سائبر حملوں کے خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسے ہتھیار سافٹ ویئر کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اہم اداروں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے یہ پابندیاں اس بات کا اعادہ ہیں کہ ایسے غیر قانونی نیٹ ورکس اور مالیاتی ذرائع کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے میں ملوث ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے استعمال پر نظر رکھنا اور غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا عالمی سیکیورٹی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
مستقبل میں ایسے اقدامات سے اس نوعیت کی غیر قانونی ٹیکنالوجیز کی سپلائی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم کرپٹو کرنسی کی گمنامی اور عالمی نوعیت کی وجہ سے یہ ایک پیچیدہ چیلنج بنا ہوا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے