مائیکروسافٹ کے مصنوعی ذہانت کے سربراہ نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے دو سالوں کے اندر زیادہ تر سفید کالر یعنی دفتری اور انتظامی ملازمتیں خودکار ہو جائیں گی۔ اس پیش رفت سے کاروباری حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے کہ اے آئی کتنی تیزی سے اعلیٰ تنخواہ والے دفتر کے کاموں کو بدل کر رکھ دے گی اور آیا کمپنیوں نے اس تبدیلی کے لیے تیاری کر رکھی ہے یا نہیں۔
مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی نے گزشتہ چند سالوں میں زبردست ترقی کی ہے، جس کی وجہ سے روبوٹ اور خودکار نظام اب صرف فیکٹریوں تک محدود نہیں بلکہ دفتری کاموں میں بھی داخل ہو رہے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی دستاویزات کی تیاری، ڈیٹا کا تجزیہ، کسٹمر سروس اور حتیٰ کہ فیصلہ سازی کے عمل میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ مائیکروسافٹ جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس فنکشن کی تیز رفتار ترقی نے کاروباری دنیا میں خدشات اور توقعات دونوں کو جنم دیا ہے۔
سفید کالر ملازمتوں کی خودکاری کا مطلب ہے کہ بینکنگ، قانون، اکاؤنٹنگ، اور انسانی وسائل جیسے شعبوں میں روایتی دفتری کاموں کی جگہ مشینیں لے سکتی ہیں۔ اس سے کمپنیوں کے اخراجات میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ متوقع ہے، مگر اس کے ساتھ ہی ملازمتوں کے مواقع کم ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اس پیش رفت سے متعلقہ شعبوں میں کام کرنے والے افراد کو اپنی مہارتوں کو جدید بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ بدلتے ہوئے ماحول میں خود کو برقرار رکھ سکیں۔
مائیکروسافٹ کی یہ پیش گوئی اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے اثرات کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ ماہرین اسے اقتصادی ترقی کا زریعہ سمجھتے ہیں تو کچھ اس کے سماجی اور معاشی نقصانات پر غور کرنے پر زور دیتے ہیں۔ کاروباری ادارے اور حکومتی ادارے اس تبدیلی کے لیے حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں تاکہ ملازمتوں کے تحفظ اور نئی مہارتوں کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کو دیکھتے ہوئے، دنیا بھر کی کمپنیاں اور ملازمین دونوں کو چاہیے کہ وہ اس تبدیلی کی لہر کے لیے خود کو تیار کریں تاکہ وہ نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں اور اقتصادی نظام میں بہتر حصہ لے سکیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt