مائیکل سیلور نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران بٹ کوائن کو محفوظ اثاثہ قرار دے دیا

زبان کا انتخاب

مائیکل سیلور، مائیکرو اسٹریٹیجی کے بانی، نے عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں بٹ کوائن کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے معروف سرمایہ کار رے ڈیلیو کے ان خیالات کے جواب میں تفصیل سے وضاحت کی کہ موجودہ عالمی نظام میں تبدیلیاں اور ممکنہ عدم استحکام پیدا ہو رہے ہیں۔ سیلور نے بٹ کوائن کو ایک ایسا اثاثہ قرار دیا جو کسی بھی تجارتی شراکت دار یا جاری کنندہ پر منحصر نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اس میں “کاؤنٹر پارٹی رسک” موجود نہیں ہوتا۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی ہے جسے مرکزی بینک یا حکومت کی مداخلت کے بغیر کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کی بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے لین دین کی شفافیت اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ سیلور کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب عالمی مالیاتی اور سیاسی ماحول غیر مستحکم ہو، بٹ کوائن سرمایہ کاروں کے لیے ایک حفاظتی اثاثہ کے طور پر کام کر سکتا ہے کیونکہ یہ روایتی مالیاتی نظام کی مشکلات سے متاثر نہیں ہوتا۔
مائیکرو اسٹریٹیجی، جو کہ بٹ کوائن میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے والی ایک معروف کمپنی ہے، نے ماضی میں بھی کرپٹو کرنسی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات، جیسا کہ مہنگائی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مالیاتی اداروں کی کمزوری، سرمایہ کاروں کو متبادل اور محفوظ سرمایہ کاری کے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ بٹ کوائن کو اسی پس منظر میں ایک مضبوط متبادل سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم، کرپٹو کرنسیوں کی نوعیت کے باعث اس میں بھی اتار چڑھاؤ اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال موجود رہتی ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں عالمی مالیاتی نظام کی صورتحال اور بٹ کوائن کی مارکیٹ میں تبدیلیاں اس اثاثہ کی قدر اور قبولیت کو متاثر کر سکتی ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تلاش