ملائشیا کی حکومت نے رمضان کے دوران تپ دق کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے زیادہ احتیاط اور آگاہی کی اپیل کی ہے۔ رمضان کے مہینے میں جہاں لوگ روزہ افطار کے لیے بازاروں اور مشترکہ اجتماعات میں جمع ہوتے ہیں، وہاں تپ دق جیسی متعدی بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ حکام نے صحت کے احتیاطی اقدامات کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ بیماری کی مزید روک تھام کی جا سکے۔
تپ دق ایک متعدی بیماری ہے جو زیادہ تر سانس کے ذریعے پھیلتی ہے اور بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر اس کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بیماری خصوصاً کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے شدید خطرناک ہو سکتی ہے۔ ملائشیا میں اس بیماری کے کیسز میں اضافہ صحت کے نظام کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، خاص طور پر ایسے موقعوں پر جب لوگ مذہبی اجتماعات میں حصہ لیتے ہیں۔
حکومت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ تپ دق کی علامات جیسے کہ مسلسل کھانسی، بخار، وزن میں کمی اور رات کو پسینہ آنا دیکھتے ہی فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں تاکہ بیماری کا جلد پتہ چلایا جا سکے اور اس کا علاج شروع کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا بھی بیماری کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات ہیں۔
رمضان کے دوران صحت کے حوالے سے یہ اقدامات نہ صرف تپ دق بلکہ دیگر متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ رمضان کی خوشیوں کے دوران صحت کا خیال رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے تاکہ بیماریوں کا پھیلاؤ کم سے کم ہو اور عوام کی صحت محفوظ رہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance