ملائشیا میں اینٹی کرپشن ایجنسی کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن کے قیام پر غور

زبان کا انتخاب

ملائشیا کے ایک سینئر وزیر نے ملائشیا کی اینٹی کرپشن کمیشن (MACC) کے ممکنہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی جانچ کے لیے رائل کمیشن آف انکوائری کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ وزیر نے اس تجویز کو کابینہ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔ یہ اقدام اس ادارے کی کارکردگی اور عوامی اعتماد میں کمی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ملائشیا کی اینٹی کرپشن کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد ملک میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی کرنا اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں اس ادارے پر اختیارات کے غلط استعمال اور ممکنہ سیاسی مداخلت کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے عوامی سطح پر اس پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں رائل کمیشن آف انکوائری کا قیام شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
رائل کمیشن آف انکوائری ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی فورم ہوتا ہے جو کسی خاص مسئلے کی گہرائی میں جا کر حقائق کا پتہ لگاتا ہے اور اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرتا ہے۔ اس کا مقصد قانونی اور اخلاقی معیار کے مطابق اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ اگر یہ کمیشن قائم ہو جاتا ہے تو یہ MACC کی کارکردگی اور اختیارات کے استعمال کی مکمل چھان بین کرے گا تاکہ ادارے پر عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
ملائشیا میں بدعنوانی کے خلاف اینٹی کرپشن کمیشن کا کردار ملک کی سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس ادارے کی شفافیت میں کمی ملک میں قانونی عمل اور حکومتی فلاح و بہبود کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے اس قسم کی تحقیقات سے نہ صرف بدعنوانی کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ ملک میں جمہوری اصولوں کی پاسداری بھی مضبوط ہوگی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کابینہ اس تجویز کو کس انداز میں قبول کرتی ہے اور آئندہ سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس دوران اینٹی کرپشن کمیشن کی فعالیت اور اس کے اختیارات پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی نظر مزید سخت ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش