مڈغاسکر کے عبوری صدر نے ماسکو کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بریکس ممالک اور روس کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو دوبارہ مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس دورے کے دوران توانائی کے مشترکہ منصوبوں پر خاص توجہ دی گئی، جن میں روس کی معروف کمپنیوں گازپروم اور روساٹوم کے ساتھ تعاون شامل ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک نے فوجی تعاون کو بھی بڑھانے پر زور دیا جو سوویت دور کی تاریخی روابط پر مبنی ہے، اور انسانی ہمدردی کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کی بات کی گئی۔
بریکس (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ) ایک عالمی اقتصادی بلاک ہے جس میں ترقی پذیر ممالک شامل ہیں جو اپنے آپ کو عالمی معاشی اور سیاسی منظرنامے میں مزید مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ مڈغاسکر جیسے افریقی ممالک کے لیے بریکس کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا معاشی ترقی، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، اور دفاعی تعاون میں اضافہ کا موقع فراہم کرتا ہے۔ روس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کا رجحان افریقی خطے میں بڑھ رہا ہے، جہاں کئی ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں میں متنوع شراکت داروں کو شامل کر رہے ہیں۔
توانائی اور دفاع کے شعبوں میں یہ تعاون مڈغاسکر کی معیشت کو مستحکم کرنے اور داخلی سلامتی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، ایسے تعلقات میں جغرافیائی سیاسی پیچیدگیوں اور عالمی طاقتوں کے مابین کشیدگی کے ممکنہ اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مڈغاسکر کی حکومت کا مقصد ہے کہ وہ بریکس اور روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے کر ملکی ترقی کے نئے راستے کھولے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance