وائٹ ہاؤس میں بینکروں اور کرپٹو پالیسی ماہرین کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد اسٹبل کوائنز کے ییلڈ کے حوالے سے مارکیٹ سٹرکچر بل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین گفتگو میں فریقین نے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا اور پیشرفت کی گئی، تاہم کوئی حتمی معاہدہ ابھی تک طے نہیں پایا۔
اسٹبل کوائنز ایسی کرپٹو کرنسیاں ہیں جو اپنی قیمت کو کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر سے منسلک رکھتی ہیں، تاکہ قیمت میں اتار چڑھاؤ کو کم کیا جا سکے۔ یہ کرپٹو کرنسیاں مالیاتی مارکیٹس میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں اور ان کی ییلڈ یا منافع کی شرح بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ تاہم، اس حوالے سے قانونی اور ضابطہ کار پہلوؤں پر اختلافات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مارکیٹ سٹرکچر بل میں تاخیر کا سامنا ہے۔
بینکروں اور کرپٹو پالیسی سازوں کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد یہ ہے کہ اسٹبل کوائنز کے ییلڈ پر واضح اور قابل عمل قواعد و ضوابط متعین کیے جائیں تاکہ مارکیٹ کو شفاف اور مستحکم بنایا جا سکے۔ اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا بلکہ مالیاتی نظام میں کرپٹو کرنسیز کے انضمام کو بھی فروغ ملے گا۔
اب تک کی گفتگو میں ترقی کے آثار نظر آئے ہیں، تاہم مختلف فریقین کے مابین کچھ بنیادی اختلافات باقی ہیں، جنہیں حل کیے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔ اس بل کی منظوری سے کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو ایک نیا قانونی ڈھانچہ ملے گا جو اس کی ترقی اور استحکام میں مددگار ثابت ہوگا۔
آئندہ دنوں میں مزید مذاکرات کی توقع ہے جن میں ممکنہ طور پر تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر بات چیت کی جائے گی تاکہ اسٹبل کوائنز کے حوالے سے واضح پالیسی وضع کی جا سکے اور مالیاتی نظام میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk