نیار کان 2026 کے موقع پر، کرپٹو کرنسی کی دنیا کے دو اہم رہنماؤں، کرکن کے شریک سی ای او ارجن سیٹھی اور ڈریگن فلائی کے حسیب قریشی کے درمیان ایک زبردست مباحثہ ہوا جس کا موضوع تھا کہ کب اور کس حد تک مصنوعی ذہانت (AI) پر حقیقی مالی معاملات کے لیے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ ارجن سیٹھی نے کہا کہ وہ اپنی تمام کرپٹو اثاثے مکمل طور پر AI کے حوالے کرنے کے حق میں ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور حفاظتی نظاموں پر گہرا اعتماد رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، حسیب قریشی نے اس خیال پر تردید کی اور کہا کہ AI ابھی اس حد تک مکمل بھروسے کے قابل نہیں ہوئی کہ اسے 100 فیصد مالی معاملات کی نگرانی سونپی جا سکے۔
کرکن ایک عالمی سطح کا معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے جو صارفین کو کرپٹو خرید و فروخت اور اسٹوریج کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ ڈریگن فلائی ایک معروف وینچر کیپیٹل فرم ہے جو بلاک چین اور کرپٹو ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ دونوں شخصیات کے درمیان یہ مباحثہ اس وقت سامنے آیا جب کرپٹو مارکیٹ میں AI کے استعمال اور خودکار تجارتی نظاموں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔
مباحثے نے کرپٹو کمیونٹی میں AI کے استعمال کے حوالے سے اعتماد اور خدشات کو اجاگر کیا ہے۔ جہاں کچھ ماہرین AI کی مدد سے تیز رفتار اور پیچیدہ مالی فیصلے کرنے کی صلاحیت کو سراہتے ہیں، وہیں دوسرے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ AI کے سکیورٹی مسائل، غیر متوقع نقصانات اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر مکمل انحصار خطرناک ہو سکتا ہے۔
آئندہ، کرپٹو مارکیٹ میں AI کے کردار کا تعین اس بات پر منحصر ہوگا کہ ٹیکنالوجی کس حد تک محفوظ، شفاف اور قابل اعتماد بن پاتی ہے۔ سرمایہ کاروں اور پلیٹ فارمز کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ AI کے فوائد اور خطرات کا مناسب توازن برقرار رکھیں تاکہ مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk