کنساس کے قانون سازوں نے ایک ایسا بل پیش کیا ہے جس کے تحت ریاست میں ترک شدہ یا غیر فعال ڈیجیٹل اثاثے، خاص طور پر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کو ریاستی تحویل میں لے لیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد ان اثاثوں سے حاصل ہونے والی اسٹیکنگ کے انعامات کو ایک ریزرو فنڈ میں جمع کرنا ہے جو ریاست کے مالیاتی وسائل کو مضبوط کرے گا۔
ڈیجیٹل اثاثے، جن میں بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر ورچوئل کرنسیز شامل ہیں، گزشتہ چند سالوں میں مالیاتی دنیا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم، ان اثاثوں کی ملکیت اور ان کی حفاظت کے حوالے سے کئی چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں، خاص طور پر جب صارفین اپنی نجی چابیاں کھو بیٹھتے ہیں یا اثاثے چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ کرپٹو اثاثے غیر فعال ہو جاتے ہیں اور ان کی مالیت ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
کنساس کا یہ نیا بل اس مسئلے کا حل پیش کرتا ہے کہ ترک شدہ ڈیجیٹل اثاثے ریاست کے کنٹرول میں آ جائیں تاکہ ان کی قدر ضائع نہ ہو اور اسٹیکنگ کے ذریعے حاصل ہونے والے انعامات ریاستی فنڈ میں شامل کیے جا سکیں۔ اسٹیکنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں کرپٹو کرنسی کو نیٹ ورک کی سیکیورٹی اور آپریشن کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں مالی انعامات دیے جاتے ہیں۔
اگر یہ بل منظور ہو گیا تو کنساس ایسے اثاثوں سے حاصل ہونے والے فوائد کو عوامی فلاح و بہبود یا دیگر ریاستی منصوبوں میں استعمال کر سکے گا۔ اس تجویز کے تحت ریاست کو کرپٹو کرنسی کی دنیا میں ایک نیا کردار ملے گا اور دیگر امریکی ریاستوں کے لیے بھی ایک مثال قائم ہو سکتی ہے جہاں ڈیجیٹل اثاثوں کے انتظام کا کوئی واضح نظام موجود نہ ہو۔
بہر حال، اس منصوبے کے نفاذ کے دوران ڈیجیٹل اثاثوں کی سیکیورٹی، قانونی پیچیدگیوں اور کرپٹو مارکیٹ کی غیر مستحکم صورتحال جیسے پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ قدم ریاست کے مالیاتی استحکام میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt