بین الاقوامی مالیاتی ادارے جے پی مورگن نے سونے کی قیمت کے حوالے سے اپنی پیش گوئی میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے ۲۰۲۶ کے لیے اس کا ہدف ۶۳۰۰ ڈالر فی اونس مقرر کر دیا ہے، جو موجودہ تقریباً ۴۷۰۰ ڈالر کے مقابلے میں تقریباً ۳۴ فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ بینک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں نئے فیڈرل ریزرو چیئرمین کی نامزدگی کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، تاہم طویل مدتی رجحان سونے کی قیمتوں کے لیے مثبت ہی رہنے کا امکان ہے۔
جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے اس قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی خریداری کی بڑھتی ہوئی طلب اور سرمایہ کاروں کی جانب سے اپنے پورٹ فولیوز کو متنوع بنانے کی کوشش کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سونے کی سپلائی محدود ہے اور اس کی غیر لچکدار خصوصیت کی وجہ سے بڑھتی ہوئی طلب قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے، جس سے مارکیٹ میں ایک نئے توازن کے قیام کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گا۔
مزید برآں، جے پی مورگن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل میں مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی کے باوجود سونا ایک محفوظ سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو کے لیے حفاظتی اثاثے کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔ تاہم، بینک نے چاندی کے قلیل مدتی امکانات کے حوالے سے محتاط رویہ اپنایا ہے، اور اس کا اندازہ ہے کہ چاندی کی قیمتوں میں اتنی تیزی متوقع نہیں ہے جتنی کہ سونے کی قیمتوں میں ہو سکتی ہے۔
سونا دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک روایتی محفوظ پناہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر اقتصادی بے یقینی اور مالیاتی اتار چڑھاؤ کے دوران۔ مرکزی بینکوں کی جانب سے ذخائر میں سونے کی مقدار میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ اس پیش گوئی کے تناظر میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہتے ہوئے سونے میں سرمایہ کاری کے مواقع پر غور کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance