جے پی مورگن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیمی ڈائمون نے حال ہی میں بلاک چین ٹیکنالوجی کی ترقی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستحکم کرپٹو کرنسیاں، جنہیں عام طور پر “اسٹیبل کوائنز” کہا جاتا ہے، روایتی بینکنگ مصنوعات کی طرح یکساں قواعد و ضوابط کے تابع ہونی چاہئیں۔ ڈائمون کے مطابق، کوئی بھی کمپنی جو صارفین کے فنڈز رکھتی ہے اور اس پر سود ادا کرتی ہے، وہ درحقیقت بینکنگ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اسے مناسب نگرانی اور ضابطہ کاری کے تحت لایا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایک متوازن حل کے طور پر تجویز دی کہ صارفین کو ان کے بینک بیلنس پر سود دینے کے بجائے، لین دین پر انعامات دیے جائیں۔ اس تجویز کا مقصد مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
اسی دوران، امریکی سینیٹ کی زرعی کمیٹی نے ایک مارکیٹ اسٹرکچر بل کے کچھ حصے منظور کیے ہیں جس کا مقصد سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) اور کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (CFTC) کے دائرہ اختیار کو واضح کرنا ہے۔ اس بل میں صارفین کے فنڈز کی علیحدگی اور ریزرو کا ثبوت پیش کرنے کی شرط شامل ہے، جو کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں شفافیت اور اعتماد کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔
اسٹیبل کوائنز، جو عموماً امریکی ڈالر یا دیگر مستحکم اثاثوں سے منسلک ہوتے ہیں، کرپٹو کرنسی کی دنیا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ وہ قیمت میں اتار چڑھاؤ سے محفوظ رہتے ہیں۔ تاہم، ان پر مناسب قواعد و ضوابط کا فقدان مالیاتی نظام میں خطرات پیدا کر سکتا ہے، جن میں صارفین کا نقصان اور مالیاتی بے ترتیبی شامل ہیں۔
معاشی اور مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے قوانین سے مارکیٹ میں اعتماد بڑھے گا اور کرپٹو کرنسیوں کی قانونی حیثیت واضح ہوگی، جس سے سرمایہ کاری میں استحکام آئے گا۔ تاہم، اس عمل کے دوران قواعد کی سختی اور نگرانی کا توازن قائم رکھنا چیلنج ہو سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance