جاپان کے وزیرِ خزانہ گوٹو کٹایاما نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ بینک آف جاپان کو مخصوص مالیاتی آلات کے انتخاب میں مکمل خودمختاری حاصل ہے اور یہ اصول بدستور قائم ہے۔ یہ بیان جاپان کی حکومت کی اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ملک کی مالیاتی پالیسی کے انتظام میں مرکزی بینک کی خودمختاری کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اس وقت جاپان میں معاشی حکمت عملیوں اور مالیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مرکزی بینک کے کردار پر جاری گفتگو کے دوران یہ وضاحت سامنے آئی ہے۔
بینک آف جاپان ملک کی مالیاتی پالیسی کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کے فیصلے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کی بھی گہری نظر میں رہتے ہیں۔ اس بینک کی خودمختاری مالی استحکام اور موثر پالیسی سازی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے تاکہ وہ ملکی معیشت کے حالات کے مطابق مناسب مالیاتی اقدامات کر سکے۔ جاپان کی معیشت، جو دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے، کئی دہائیوں سے کم شرح سود اور مختلف مالیاتی تجربات کی وجہ سے عالمی مالیاتی ماہرین کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔
اس بیان کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ جاپان کی مالیاتی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی اور بینک آف جاپان اپنی مالیاتی پالیسی کے اوزار خود منتخب کرتا رہے گا۔ اس خودمختاری کی بحالی سے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ میں استحکام کی توقع کی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی معاشی صورت حال غیر یقینی ہے اور مرکزی بینکوں کی پالیسیاں مارکیٹس پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance