جاپانی وزیر تجارت نے ٹیرف میں تبدیلیوں کے خلاف خبردار کیا

زبان کا انتخاب

جاپان کے وزیر تجارت ریوسے آکازاوا نے ممکنہ ٹیرف تبدیلیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جو جاپان کے لیے موجودہ جاپان-امریکہ تجارتی معاہدے کے مقابلے میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان خدشات کا اظہار انہوں نے امریکہ کے وزیر تجارت ہاورڈ لوٹ نِک کے ساتھ ایک ٹیلی فون مذاکرات کے دوران کیا۔ یہ گفتگو دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ جاپان کو اپنی اقتصادی شراکت داری میں فائدہ مند شرائط برقرار رکھنی چاہئیں۔
جاپان اور امریکہ کے درمیان گزشتہ سال ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پایا تھا جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی لین دین کو آسان بنانا اور اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنا تھا۔ تاہم، حالیہ تجاویز نے اس معاہدے کے تحت بننے والی شرائط میں تبدیلی کا امکان پیدا کر دیا ہے، جس پر جاپانی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر ٹیرف میں اضافہ یا دیگر تبدیلیاں کی گئیں تو اس سے جاپانی برآمدات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور امریکی مارکیٹ میں جاپانی مصنوعات کی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔
تجارتی معاہدے عالمی معیشت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کرتے ہیں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھاتے ہیں۔ جاپان کی معیشت بڑی حد تک برآمدات پر منحصر ہے، اس لیے ٹیرف میں کسی بھی قسم کی تبدیلی اس کی اقتصادی ترقی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ جاپانی وزیر تجارت کی جانب سے امریکہ کو دی گئی یہ وارننگ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں توازن قائم رکھنا اہم ہے تاکہ باہمی فوائد کو یقینی بنایا جا سکے۔
اگرچہ تجارتی مذاکرات ابھی جاری ہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک ایسا حل تلاش کرنا ہو گا جو دونوں کے اقتصادی مفادات کا تحفظ کرے۔ ورنہ، ٹیرف میں غیر متوقع تبدیلیاں عالمی تجارتی ماحول میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں، جس کا اثر نہ صرف جاپان اور امریکہ بلکہ دیگر عالمی معیشتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے