ایران کی کرنسی ریال کی مسلسل گراوٹ نے ملک کے متوسط طبقے کو مقامی بینکوں کو چھوڑ کر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں میں سرمایہ کاری کی جانب مائل کر دیا ہے۔ ملکی معیشت میں بے یقینی اور مالی بحران کے باعث لوگ روایتی مالی نظام سے ہٹ کر ڈیجیٹل کرپٹو اثاثوں کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ اپنے اثاثوں کی قدر کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
لبنان میں مالی بحران کے دوران کرنسی کی تیز گراوٹ نے مقامی شہریوں کو کرپٹو کرنسیوں کی طرف راغب کیا تھا، اور ایران میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ریال کی قدر میں کمی نے نہ صرف درآمدات کو مہنگا کر دیا ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ بینکوں پر اعتماد کھو چکے ہیں۔
ایران میں کرپٹو کرنسی کا استعمال بڑھنے کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ کرپٹو مارکیٹ کی لچک اور عالمی سطح پر قبولیت کی وجہ سے لوگ اسے ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھ رہے ہیں۔ تاہم، کرپٹو کرنسیوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں، کیونکہ ان کی قیمتیں انتہائی متغیر ہوتی ہیں اور حکومتی پالیسیاں بھی اس بازار کو متاثر کر سکتی ہیں۔
ایران کی حکومت نے ماضی میں کرپٹو کرنسیوں کے استعمال پر پابندیاں عائد کی ہیں، تاہم مالی مشکلات اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث شہری اپنے مالی تحفظ کے لیے غیر روایتی ذرائع کی تلاش میں ہیں۔ اس صورتحال میں کرپٹو کرنسیوں کا بڑھتا ہوا رجحان مالی نظام میں تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
مستقبل میں اگر ریال کی گراوٹ جاری رہی تو ممکن ہے کہ کرپٹو کرنسیوں کا استعمال مزید بڑھ جائے، تاہم اس کے ساتھ مالی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات اور منظم پالیسیاں بھی ناگزیر ہوں گی تاکہ مارکیٹ میں بے یقینی کم کی جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk