ایران کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج نوبٹیکس نے حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود صارفین کی جانب سے مسلسل فنڈ نکالنے کے رجحان کا سامنا نہیں کیا۔ مختلف آزاد تجزیاتی اداروں نے نوبٹیکس کی آن چین سرگرمی کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اگرچہ حملوں کے فوری بعد ایک وقتی سرگرمی میں اضافہ اور فنڈز کی منتقلی میں اضافہ ہوا، تاہم یہ زیادہ تر ایکسچینج کے اندرونی مالی انتظامات کی علامت تھے نہ کہ صارفین میں خوف یا گھبراہٹ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نکالنے کی کوشش۔
یہ حملے 28 فروری کو ہوئے، جس کے بعد نوبٹیکس کی گرم والیٹ سے سرد والیٹ میں 35 ملین ڈالر سے زائد کی منتقلی دیکھی گئی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ رقم صارفین کی جانب سے فوری نکالنے کی بجائے ایکسچینج کی اپنی مالی حکمت عملی کا حصہ تھی۔ ایران میں کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو اکثر سیاسی و معاشی عدم استحکام سے متاثر ہونے کا خطرہ رہتا ہے، خاص طور پر جب ملک پر بین الاقوامی پابندیاں عائد ہوں یا اس پر فوجی حملے ہوں۔
نوبٹیکس ایران کی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ایک اہم پلیٹ فارم ہے جس نے ملکی اور بین الاقوامی صارفین کو کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس کا استحکام اس بات کی دلیل ہے کہ مارکیٹ میں مکمل بھگدڑ نہیں مچی اور صارفین نے اپنی سرمایا کاری برقرار رکھی۔ تاہم، اس قسم کے جغرافیائی سیاسی واقعات کے دوران مالیاتی مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے، جو مستقبل میں کرپٹو کرنسی کے بہاؤ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ نوبٹیکس نے اپنی مالی پوزیشن کو مستحکم رکھنے کے لیے بروقت اقدامات کیے ہیں، جو صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔ تاہم، علاقائی کشیدگی اور پابندیوں کی وجہ سے کرپٹو کرنسی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال جاری رہنے کا خدشہ ہے، جس پر سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔