ایران کے سپریم لیڈر کی وفات کے اعلان کے بعد عالمی مالیاتی اور کرپٹوکرنسی مارکیٹس میں بے چینی پھیل گئی ہے جس کے نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت میں چار فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حالیہ 24 گھنٹوں کے دوران بٹ کوائن کی قیمت 63,453 سے 68,200 امریکی ڈالر کے درمیان رہی اور اب یہ تقریباً 66,629 ڈالر کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ اس اضافے کا پس منظر ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی مجموعی مالیت تقریباً 2.3 ٹریلین ڈالر ہے، جو گزشتہ دن کے مقابلے میں چار فیصد سے زائد کم ہوئی ہے۔ اس کے باوجود، کچھ دیگر کرپٹو کرنسیاں جیسے فائیو، ڈینٹ، اور کوس نے بالترتیب 48، 44، اور 25 فیصد کے نمایاں اضافے دکھائے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال کے دوران سرمایہ کار کرپٹو کرنسیوں کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
ایران نے اپنے سپریم لیڈر کی موت کی تصدیق کی ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد ہوئی۔ ایران نے اس واقعے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے اور اس کے بعد ایران کی اسٹاک مارکیٹ ٹریڈنگ کو اگلے ہفتے تک معطل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران، ایران کی کرپٹوکرنسی معیشت گزشتہ سال سات ارب 78 کروڑ ڈالر سے زائد کی مالیت رکھتی ہے، جو ملک کی اقتصادی مشکلات کے باوجود ایک اہم مالیاتی شعبہ بنتی جا رہی ہے۔
عالمی سطح پر، بٹ کوائن کے علاوہ ایتھیریم، بائنانس کوائن، اور دیگر معروف کرپٹو کرنسیاں بھی مارکیٹ میں مثبت کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ بلیک راک کی جانب سے سپورٹ کردہ بٹ کوائن اسپاٹ ای ٹی ایف میں بھی بڑی سرمایہ کاری ہوئی ہے، جو کرپٹو مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا ثبوت ہے۔
جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی اقتصادی تبدیلیوں کے پیش نظر، سرمایہ کاروں کو مستقبل میں مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایسی صورت حال میں کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance