ایران کی اعلیٰ قیادت کی وفات کے بعد ملک میں عبوری قیادت کے لیے ایک منصوبہ وضع کیا گیا ہے جس کے تحت صدر ابراہیم رئیسی، چیف جسٹس، اور گارڈین کونسل کے ایک جج مل کر ملک کی سربراہی کریں گے۔ یہ اقدام ملک میں استحکام اور حکومتی تسلسل کو یقینی بنانے کی غرض سے بنایا گیا ہے تاکہ طاقت کے خلا کو مؤثر طریقے سے بھر دیا جا سکے۔ گارڈین کونسل، جو انتخابات اور قانون سازی کی نگرانی کرتی ہے، کا ایک نمائندہ بھی اس عبوری قیادت کا حصہ ہوگا۔
ایران میں سپریم لیڈر کا کردار سیاسی اور مذہبی دونوں اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور اس کی وفات کے بعد ملک میں سیاسی صورتحال حساس ہو جاتی ہے۔ اس لیے عبوری قیادت کا یہ منصوبہ ملک میں نظم و ضبط قائم رکھنے اور ممکنہ سیاسی خلل سے بچنے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ ایران کی سیاسی نظام میں سپریم لیڈر کی جگہ لینے کا عمل پیچیدہ ہوتا ہے اور اس میں مختلف اداروں کا تعاون درکار ہوتا ہے۔
ابراہیم رئیسی پہلے ہی ملک کے صدر اور سابق چیف جسٹس رہ چکے ہیں، اس لیے ان کے عبوری قیادت میں شامل ہونے سے حکومتی استحکام کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔ اس عبوری ٹیم کا قیام اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ایران ایک منظم اور سوچ سمجھ کر بنائے گئے منصوبے کے تحت قیادت کی تبدیلی کر رہا ہے تاکہ ملک میں کسی قسم کا سیاسی خلل پیدا نہ ہو۔
ایران کی سیاسی تاریخ میں اس قسم کے عبوری اقدامات معمول کے مطابق ہوتے رہے ہیں تاکہ ملک کی سیاسی اور سماجی استحکام برقرار رہے۔ موجودہ عبوری قیادت کے حوالے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ملک کو آئندہ مستقل قیادت کے قیام تک مستحکم انداز میں چلائے گی۔