بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا انتباہ: اسٹیبل کوائنز کا استعمال پابندیوں کی خلاف ورزی اور منی لانڈرنگ میں بڑھ رہا ہے

زبان کا انتخاب

عالمی مالیاتی معیار قائم کرنے والے ادارے FATF نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسٹیبل کوائنز اب غیر قانونی کرپٹو سرگرمیوں میں زیادہ تر حصہ لے رہے ہیں اور پیر ٹو پیر منتقلی کے ذریعے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ اسٹیبل کوائنز ایسے کرپٹو کرنسی ٹوکنز ہوتے ہیں جن کی قیمت کو کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر یا سونا سے منسلک کر کے قیمت میں اتار چڑھاؤ کو کم کیا جاتا ہے، جس سے ان کا استعمال ادائیگیوں اور مالی لین دین میں آسانی کے لیے کیا جاتا ہے۔
لیکن رپورٹ کے مطابق، اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث ان کا استعمال اب پابندیوں کی خلاف ورزی، منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے لیے زیادہ کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر، یہ کرپٹو کرنسیاں بلاک چین پر براہ راست صارفین کے درمیان منتقل کی جاتی ہیں، جس سے نگرانی اور ٹریکنگ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہ صورتحال عالمی مالیاتی نظام کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے، کیونکہ اس سے مالیاتی جرائم کے خاتمے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر مالی جرائم کے خلاف عالمی معیار وضع کرتا ہے۔ اس کا مقصد مختلف ممالک کو مالیاتی نظام کی شفافیت اور قانونی حدود کی پابندی کے لیے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ اسٹیبل کوائنز کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے FATF کو مجبور کیا ہے کہ وہ اس شعبے میں سخت نگرانی اور ضوابط کی ضرورت پر زور دے۔
کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں اسٹیبل کوائنز کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ سرمایہ کاروں اور تاجروں کو قیمتوں کے غیر یقینی پن سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ تاہم، اس کا غلط استعمال مالیاتی نظام کو غیر مستحکم کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر مالیاتی جرائم میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ مستقبل میں، ممکنہ طور پر مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے اسٹیبل کوائنز کے استعمال پر مزید سخت قوانین اور نگرانی نافذ کریں گے تاکہ مالیاتی نظام کی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش