بھارت کی مینوفیکچرنگ حکمت عملی پر عالمی سطح پر سبسڈی کی بنیاد پر تنقید

زبان کا انتخاب

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششیں جو ملک کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں، کو دنیا کی بڑی معیشتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔ عالمی تجارتی قوانین کے تحت سبسڈی کی فراہمی پر سوال اٹھاتے ہوئے، مختلف ممالک نے بھارت کی پالیسیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
بھارتی حکومت نے ملکی صنعت کو فروغ دینے کے لیے متعدد ترغیبات اور سبسڈی فراہم کی ہیں تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے اور مقامی پیداوار میں اضافہ ہو۔ اس حکمت عملی کا مقصد بھارت کو عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل بنانا ہے، تاہم اسے کئی بین الاقوامی تجارتی شراکت داروں کی جانب سے غیر منصفانہ مسابقت اور تجارتی معاہدوں کی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔
تنقید کرنے والے ممالک کا موقف ہے کہ اس طرح کی سبسڈیز تجارتی تنازعات کو جنم دے سکتی ہیں اور متاثرہ ممالک کی طرف سے تلافی کے اقدامات کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ اپنی اندرونی معیشتی ترقی کی خواہشات اور عالمی تجارتی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرے۔
بھارت کی مینوفیکچرنگ کو بڑھانے کی کوششیں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، اور مختلف ممالک اس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کے عالمی تجارتی نظام پر ممکنہ اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ اس پس منظر میں بھارت کو اپنی پالیسیوں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ڈھالنے اور تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بڑا تجارتی تنازعہ پیدا نہ ہو۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے