بھارتی وزیر اعظم مودی نے مصنوعی ذہانت کی جعلی ویڈیوز اور غلط معلومات کے خدشات اجاگر کیے

زبان کا انتخاب

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز یعنی “ڈیپ فیکس” اور غلط معلومات کے بڑھتے ہوئے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے واضح ذرائع کی شناخت اور واٹرمارکنگ کے معیار کو اپنانا ناگزیر ہے تاکہ معاشرتی سالمیت اور سچائی کو محفوظ رکھا جا سکے۔ وزیر اعظم نے خاص طور پر بچوں کی ڈیجیٹل دنیا میں حفاظت کو بھی اہمیت دی، کیونکہ نوجوان نسل اس جدید دور کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہے۔
ڈیپ فیکس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی شخص کی ویڈیو یا آواز کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کر کے جعلی مواد تخلیق کیا جا سکتا ہے، جو عوامی رائے اور سیکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ ٹیکنالوجی غلط معلومات پھیلانے اور سیاسی یا سماجی انتشار پیدا کرنے میں استعمال ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت کے تناظر میں حکومتوں اور ٹیکنالوجی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے میں ضابطہ کاری اور حفاظتی تدابیر کو مضبوط کریں۔
مودی کے بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے معاشرتی اور سیاسی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس تناظر میں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شفافیت اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ایک عالمی ضرورت بن چکا ہے۔ بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک کے سربراہ کی طرف سے اس مسئلے کو اجاگر کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ منفی اثرات کو روکنے کے لیے بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔
آئندہ عرصے میں مختلف ممالک کی حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے مل کر اس مسئلے پر کام کر سکتے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال ممکن ہو اور اس کے غلط استعمال سے بچاؤ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، عوامی شعور بیدار کرنا اور تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل سیکیورٹی کی تعلیم کو فروغ دینا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے تاکہ نئی نسل محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل صارف بنے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے