غیرقانونی نیٹ ورکس کا 2025 میں 141 ارب ڈالر کا حصہ مستحکم کرپٹو کرنسی کے حجم میں رہا

زبان کا انتخاب

گذشتہ سال غیرقانونی کرپٹو کرنسی کے لین دین میں 86 فیصد حصہ پابندیوں سے متعلق سرگرمیوں کا تھا، جس میں زیادہ تر لین دین مستحکم کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز کے ذریعے انجام پایا، یہ بات TRM لیبز کی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ مستحکم کرپٹو کرنسی، جسے اسٹیبلیکون بھی کہا جاتا ہے، ایک قسم کی ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کی قیمت عام طور پر کسی مستحکم اثاثے جیسے امریکی ڈالر سے منسلک ہوتی ہے تاکہ قیمت میں اتار چڑھاؤ کو کم کیا جا سکے۔
مستحکم کرپٹو کرنسیاں دنیا بھر میں کرپٹو مارکیٹ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں اور ان کا تجارتی حجم کھربوں ڈالر میں ناپا جاتا ہے۔ تاہم، ان کرنسیوں کے ذریعے غیرقانونی مالیاتی سرگرمیاں، خاص طور پر پابندیوں کے تحت ممنوعہ لین دین، بڑھتی جا رہی ہیں جس سے مالیاتی نگرانی کے اداروں کے لیے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ TRM لیبز کی رپورٹ کے مطابق، گذشتہ سال مستحکم کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز کے توسط سے ہونے والے غیرقانونی لین دین کی مالیت تقریباً 141 ارب ڈالر رہی، جو اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی نشاندہی کرتی ہے۔
کرپٹو کرنسی کی دنیا میں مستحکم کرپٹو کرنسیاں اپنی استحکام کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور ٹریڈرز میں مقبول ہیں، مگر ان کا غلط استعمال مالیاتی نظام کی شفافیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ عالمی سطح پر مالیاتی ادارے اور حکومتی ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز کو مزید سخت نگرانی کے دائرے میں لایا جائے تاکہ غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔
آئندہ، اگر مستحکم کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں نگرانی کو بہتر نہ بنایا گیا تو یہ امکان موجود ہے کہ غیرقانونی نیٹ ورکس اپنی سرگرمیوں کو مزید بڑھائیں گے، جو عالمی مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے مختلف ممالک اور مالیاتی ادارے اس شعبے میں زیادہ مؤثر تعمیل اور نگرانی کے نظام قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے

تازہ خبریں و تحاریر

تلاش