انسانی دماغی خلیات نے ‘ڈوم’ گیم کھیلنا سیکھ لیا، سائنسی تجربات میں نئی پیش رفت

زبان کا انتخاب

حالیہ سائنسی تجربات میں انسانی دماغی خلیات کو کمپیوٹر گیم ‘ڈوم’ کھیلنے کی تربیت دی گئی ہے، جو حیاتیاتی کمپیوٹنگ کے میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار پائی ہے۔ اس تجربے میں زندہ انسانی نیورونز کو استعمال کیا گیا تاکہ وہ روایتی انجینئرنگ بینچ مارک کو حیاتیاتی نظاموں تک بڑھا سکیں۔
ڈوم ایک مشہور فرسٹ پرسن شوٹر ویڈیو گیم ہے جسے عام طور پر کمپیوٹر اور کنسولز پر کھیلا جاتا ہے۔ اس گیم میں کردار کو مختلف دشمنوں سے لڑنا اور مراحل مکمل کرنا ہوتا ہے۔ انسانی دماغی خلیات کو اس گیم کی تربیت دینا ایک پیچیدہ اور جدید سائنسی کوشش ہے جو نیوروسائنس اور کمپیوٹر سائنس کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔
یہ تجربہ دماغی نیوروسلز کی صلاحیتوں کو سمجھنے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ نیورونز کی اس طرح تربیت سے مستقبل میں حیاتیاتی کمپیوٹنگ میں نئی راہیں کھلنے کا امکان ہے، جہاں انسانی دماغ کی پیچیدگی اور کمپیوٹر کی تیز رفتاری کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مصنوعی ذہانت، دماغی امراض کی تشخیص اور علاج کے طریقوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
اس سے قبل بھی حیاتیاتی کمپیوٹنگ کے مختلف تجربات کیے گئے ہیں جن میں نیورونز کو مختلف سگنلز اور پیٹرنز پہچاننے کی صلاحیت دی گئی تھی، لیکن گیم کھیلنے جیسا عملی اور پیچیدہ عمل سیکھنا اس شعبے میں ایک نئی پیش رفت ہے۔ اس تجربے کے بعد حیاتیاتی کمپیوٹنگ کی صلاحیتوں کو بڑھانے اور انہیں عملی زندگی میں لاگو کرنے کے لیے مزید تحقیق کی جائے گی۔
مستقبل میں اس قسم کی تکنیکی ترقی سے کمپیوٹر سائنس، نیوروسائنس اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں نمایاں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم اس میں اخلاقی اور سیکیورٹی چیلنجز بھی شامل ہیں جن پر غور و فکر کرنا ضروری ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے