مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت کے لیے مرکزی اداروں پر انحصار ختم کرتے ہوئے، غیر مرکزی (decentralized) ماڈلز ایک نئی دور کا آغاز کر رہے ہیں جو ڈیجیٹل ذہانت کو ایک قابل معیشتی اثاثے کے طور پر تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق، ٹوکنائزڈ AI یعنی AI کی نمائندگی کرنے والے ڈیجیٹل ٹوکنز صارفین کو دنیا کے سب سے قیمتی وسائل تک براہ راست رسائی فراہم کریں گے۔
روایتی طور پر، مصنوعی ذہانت کی تربیت اور ڈیٹا پروسیسنگ بڑے اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے زیر کنٹرول ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس شعبے میں شراکت داری محدود رہی ہے۔ تاہم، غیر مرکزی AI تربیت کے ذریعے، مختلف افراد اور چھوٹے ادارے اپنی کمپیوٹنگ پاور اور ڈیٹا کو مشترکہ طور پر استعمال کر کے تربیتی عمل میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس ماڈل کی بدولت، AI ماڈلز کی ترقی میں شفافیت اور شمولیت بڑھے گی اور نئی مالیاتی مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ رجحان نہ صرف AI کی ترقی کو تیز کرے گا بلکہ ڈیجیٹل ذہانت کو ایک نئے اثاثے کے طور پر بھی متعارف کرائے گا، جسے ٹوکنز کی شکل میں خریدا، بیچا اور استعمال کیا جا سکے گا۔ اس سے سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع کھلیں گے اور AI کے شعبے میں جدت کو فروغ ملے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آ رہی ہے جب عالمی سطح پر AI ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسے مختلف شعبوں جیسے صحت، تعلیم، اور مالیات میں بڑے پیمانے پر اپنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، غیر مرکزی AI تربیت کے ماڈل کو اپنانے میں کچھ چیلنجز بھی ہیں، جیسے سیکیورٹی کے مسائل، ڈیٹا کی رازداری، اور قانونی و اخلاقی پہلو۔
مستقبل میں، جب یہ نظام مکمل طور پر مستحکم ہو جائے گا، تو یہ AI کی دنیا میں انقلاب برپا کر سکتا ہے، جہاں ہر کوئی اس کی ترقی میں براہ راست حصہ لے سکے گا اور اس کی قدر میں اضافہ ہو گا۔ یہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے لیے نئے دروازے کھولے گا بلکہ اقتصادی ماڈلز میں بھی تبدیلی کا باعث بنے گا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk