ہانگ کانگ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم متحدہ عرب امارات کے دبئی اور ابوظہبی کی جانب سے قائم کردہ سخت اور جامع ضابطہ کار نے اس خطے میں مقابلے کو سخت کر دیا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی نے ورچوئل اثاثوں کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری فریم ورک متعارف کروایا ہے جسے ایک مخصوص، مربوط ریگولیٹری اتھارٹی کے تحت لایا گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم ہوتا ہے بلکہ مارکیٹ کی شفافیت اور استحکام میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ہانگ کانگ اپنی مالیاتی خدمات کی تاریخ اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے معروف ہے اور یہاں ڈیجیٹل کرپٹو کرنسیز اور ورچوئل اثاثوں کی ترقی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم، متحدہ عرب امارات کی جارحانہ حکمت عملی نے اس خطے کو ایک مضبوط چیلنج دے دیا ہے، جہاں سرمایہ کاری کے مواقع اور ریگولیٹری معاونت کی فراہمی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ڈیجیٹل اثاثوں کا عالمی منڈی میں کردار بڑھتا جا رہا ہے اور مختلف ممالک اپنی اپنی پالیسیوں کے ذریعے اس شعبے میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہانگ کانگ کے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنے روایتی مالیاتی مرکز کی حیثیت کو برقرار رکھے بلکہ جدید ریگولیٹری نظام اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی فراہم کرے تاکہ عالمی سطح پر مقابلے میں پیچھے نہ رہ جائے۔
مستقبل میں، ہانگ کانگ کو چاہیے کہ وہ اپنے ضابطہ کار نظام کو مزید بہتر بنائے اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے جدید تکنیکی اور مالیاتی سہولیات مہیا کرے، تاکہ وہ متحدہ عرب امارات کی جارحانہ مسابقت کا مقابلہ کر سکے۔ اس کے علاوہ، عالمی مالیاتی مارکیٹ میں تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر، ہانگ کانگ کو اپنی پالیسیوں میں لچک پیدا کرنا ہوگی تاکہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں کی دنیا میں اپنی اہمیت کو برقرار رکھ سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk