ہانگ کانگ کے قانون ساز اور ویب 3 کے حامی جانی نگ نے کہا ہے کہ ہانگ کانگ کا عام قانون (کامن لا)، سرمایہ کی آزادانہ آمد و رفت اور جنوبی چین کے ساتھ مضبوط روابط اسے عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ایک منفرد کردار عطا کرتے ہیں۔ ہانگ کانگ ایک ایسا مالی مرکز ہے جہاں روایتی مالیاتی نظام اور جدید ڈیجیٹل کرنسیوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جس سے اسے عالمی کرپٹو کمیونٹی میں ایک اہم مقام حاصل ہو رہا ہے۔
کرپٹو کرنسیز کی عالمی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ، مختلف ممالک اور شہروں نے اپنی پالیسیوں کو اس تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کے مطابق ڈھالنا شروع کر دیا ہے۔ ہانگ کانگ، جو کہ اپنی آزاد معیشت، مضبوط قانونی ڈھانچے اور چین کے مالیاتی مرکز سے قریبی تعلقات کے باعث جانا جاتا ہے، اب خود کو عالمی کرپٹو مارکیٹ کا پل بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد کرپٹو کرنسی کے کاروبار کو فروغ دینا اور سرمایہ کاروں کو ایک محفوظ اور شفاف ماحول فراہم کرنا ہے۔
ہانگ کانگ کی حکومتی اور مالیاتی اداروں نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے مختلف قوانین اور قواعد وضع کیے ہیں تاکہ مارکیٹ کی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ہانگ کانگ کی جغرافیائی اہمیت اور چین کے جنوبی حصے کے ساتھ قریبی تجارتی تعلقات اسے ایشیا میں کرپٹو کرنسی کی تجارت کا ایک اہم مرکز بناتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے، سرمایہ کاروں کو نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر کرپٹو کرنسیوں کی خرید و فروخت میں سہولت میسر آتی ہے۔
مستقبل میں، اگر ہانگ کانگ اپنی حکمت عملیوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکا تو یہ عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ایک مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، کرپٹو کرنسی کی دنیا میں حکومتوں کی پالیسیوں میں تبدیلی، عالمی مالیاتی استحکام اور ٹیکنالوجی میں ترقی جیسے عوامل نے اس شعبے کو غیر یقینی صورتحال کا شکار بھی رکھا ہوا ہے، جس کے پیش نظر ہانگ کانگ کو محتاط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk