کیون وورش کی ممکنہ تقرری نے بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کی صورتحال پیدا کر دی

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن کی قیمت میں حالیہ دنوں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے اور جمعرات کی دیر رات قیمت تقریباً 81,000 ڈالر تک گر گئی، جس کی بڑی وجہ فیڈرل ریزرو کے نئے رکن کے طور پر کیون وورش کے امکانات میں اضافہ سمجھا جا رہا ہے۔ کیون وورش ایک معروف معاشی ماہر اور سابق فیڈرل ریزرو بورڈ کے رکن ہیں، جنہیں مالیاتی پالیسیوں میں سخت رویہ اپنانے کے لیے جانا جاتا ہے، جو عموماً کرپٹو کرنسیوں کے لیے منفی سمجھا جاتا ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے مشہور اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، اپنی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہتی ہے اور اس کا تعلق عالمی مالیاتی پالیسیوں اور مارکیٹ کے جذبات سے ہوتا ہے۔ جب مرکزی بینک سخت مالیاتی اقدامات کرتا ہے، جیسے کہ سود کی شرح میں اضافہ، تو سرمایہ کار عام طور پر روایتی اثاثوں کی طرف مڑ جاتے ہیں، جس سے کرپٹو کرنسیوں کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔
کیون وورش کے نام پر بڑھتی ہوئی شرط بندی نے سرمایہ کاروں کے منافع کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے بٹ کوائن کی مارکیٹ میں مندی کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ اس صورتحال میں، کرپٹو مارکیٹ کی مستقبل کی سمت غیر یقینی نظر آتی ہے، خاص طور پر جب عالمی معیشت میں جبری تبدیلیاں جاری ہیں۔
اگر وورش کی تقرری پکی ہوتی ہے، تو امکان ہے کہ وہ سخت مالیاتی پالیسیاں نافذ کریں گے جو سرمایہ کاری کی دنیا میں روایتی اثاثوں کو ترجیح دیں گی، جس سے کرپٹو کرنسیوں کی قدر پر دباؤ پڑنے کا خدشہ رہے گا۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ میں اس قسم کے اشارے عام طور پر سرمایہ کاروں کو محتاط بناتے ہیں، جس کی وجہ سے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔
بٹ کوائن کی قیمت اور اس کے مستقبل کا انحصار عالمی مالیاتی پالیسیوں اور مرکزی بینک کی حکمت عملیوں پر ہے، اور کیون وورش کی ممکنہ تعیناتی اس سلسلے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے