بٹ کوائن سونا کی طرح ‘محفوظ پناہ’ ثابت نہ ہونے کی وجوہات

زبان کا انتخاب

بٹ کوائن نے حالیہ مالیاتی اتار چڑھاؤ کے دوران سونا کی طرح ‘محفوظ پناہ’ کا کردار ادا کرنے میں ناکامی دکھائی ہے۔ عام طور پر سونا ایک ایسا اثاثہ سمجھا جاتا ہے جو غیر یقینی مالی حالات میں سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ بٹ کوائن کی خصوصیت کے طور پر اسے بھی ایک ڈیجیٹل محفوظ پناہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، تازہ ترین مالیاتی بحرانوں میں بٹ کوائن نے ایک “اے ٹی ایم” کی طرح کام کیا ہے، جہاں سرمایہ کار اسے جلدی نقد رقم حاصل کرنے کے لیے فروخت کرتے ہیں۔
بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرپٹو کرنسی ہے جسے 2009 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اسے غیر مرکزی نظام اور بلاک چین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرنے والی پہلی کرپٹو کرنسی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی قیمت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ اور مارکیٹ کی حساسیت نے اسے روایتی مالیاتی اثاثوں سے مختلف کیا ہے۔ سونا ہمیشہ سے قیمتی دھات کے طور پر سرمایہ کاروں کے لیے بھروسے کا ذریعہ رہا ہے، خاص طور پر جب عالمی معیشت میں عدم استحکام ہو۔
بٹ کوائن کے برعکس، سونا اپنے استحکام اور طویل مدتی قدر کی وجہ سے مالیاتی بحرانوں میں سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ پناہ سمجھا جاتا ہے۔ بٹ کوائن کی قیمت اکثر مارکیٹ کی بدحالی کے دوران تیزی سے گر جاتی ہے کیونکہ سرمایہ کار اپنی لیکویڈیٹی بڑھانے کے لیے اسے بیچتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بٹ کوائن فوری نقدی کے حصول کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ ایک محفوظ اثاثہ کے طور پر۔
آئندہ مالیاتی منظرنامے میں اگر عالمی معیشت میں مزید بے یقینی اور بحران پیدا ہوتے ہیں تو بٹ کوائن کی قیمت میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کی تشکیل میں اس بات کا خیال رکھیں کہ بٹ کوائن کو سونا جیسے ‘محفوظ پناہ’ کے طور پر مکمل بھروسے کے ساتھ نہ لیا جائے بلکہ اسے ایک زیادہ خطرے والا اور متحرک اثاثہ سمجھیں۔

یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk

بروقت خبروں کے لیے ہمارے سوشل چینل جوائن کیجیے