امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے اس ہفتے متوقع شرح سود کے فیصلے کو مالیاتی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر توجہ دی جا رہی ہے، جس کا اثر بٹ کوائن سمیت دیگر خطرے والے اثاثوں اور امریکی ڈالر پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔ فیڈ کے چیئرمین جیروم پاول کی جانب سے ممکنہ طور پر “نرمی کا ایک وقفہ” یا “ڈوویش پاز” کا اشارہ دیا جا سکتا ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں امید بڑھ سکتی ہے کہ شرح سود میں مزید اضافہ فی الحال مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
شرح سود کا تعین امریکی معیشت کی صورتحال کے مطابق کیا جاتا ہے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور معاشی ترقی کو مستحکم رکھا جا سکے۔ حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح نے بلند سطحیں حاصل کی تھیں، جس کی وجہ سے فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں اضافہ کیا تھا تاکہ معیشت میں توازن قائم رہے۔ تاہم، شرح سود میں اضافے سے سرمایہ کاری اور قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر اسٹاک مارکیٹس اور کرپٹو کرنسی جیسے بٹ کوائن پر بھی پڑتا ہے۔
بٹ کوائن، جو کہ ایک غیر مرکزی ڈیجیٹل کرنسی ہے، اکثر سرمایہ کاروں کے لیے ایک متبادل اثاثہ تصور کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب امریکی ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ اگر فیڈرل ریزرو کا فیصلہ نرم رویہ اختیار کرتا ہے تو بٹ کوائن اور دیگر خطرے والے اثاثوں کی قدر میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم، پاول کی جانب سے دیگر اقتصادی مسائل پر دی جانے والی گفتگو ممکنہ طور پر اس مثبت رجحان کو محدود کر سکتی ہے۔
مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ فیڈ کے اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، کیونکہ سرمایہ کار پاول کے بیانات اور معاشی اشاروں کو بغور دیکھیں گے۔ شرح سود میں مزید تبدیلیوں کا انحصار عالمی معاشی حالات، مہنگائی کی رفتار، اور روزگار کی صورتحال پر ہوگا۔
یہ فیصلہ نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ امریکی ڈالر عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اسی لیے اس ہفتے کا فیڈرل ریزرو کا فیصلہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk