عالمی مالیاتی منڈیوں میں عمومی تیزی کے باوجود بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافے کا فقدان سامنے آیا ہے۔ یہ صورتحال بٹ کوائن کے مداحوں اور سرمایہ کاروں کے لیے مایوس کن ہے، جو اس کرپٹو کرنسی کے مستقبل کے حوالے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سپلائی کا زیادہ حجم اور سنہری دھات گولڈ کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی ذہنی عادتیں شامل ہیں۔
بٹ کوائن، جو کہ دنیا کی سب سے معروف اور قدیم کرپٹو کرنسی ہے، نے گزشتہ چند سالوں میں سرمایہ کاری کی دنیا میں اپنی خاص جگہ بنائی ہے۔ اس کی قیمت میں تیزی سے اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی صورتحال کے مطابق تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ تاہم جب دنیا بھر کی مارکیٹیں عموماً تیزی کی لپیٹ میں ہوتی ہیں، تو بٹ کوائن کی قیمت میں اضافے کی رفتار سست رہتی ہے، جس کی وجہ ماہرین نے مارکیٹ میں دستیاب بٹ کوائن کی بڑی مقدار اور سرمایہ کاروں کا سنہری دھات کے حوالے سے اپنی سرمایہ کاری کی روایتی سوچ کو قرار دیا ہے۔
سرمایہ کاروں کی “مسکل میموری” کہلاتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ گولڈ کی قیمتوں کے تاریخی رجحانات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بٹ کوائن کی قیمت کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ بٹ کوائن کی قیمت میں تیزی سے بہت زیادہ اضافہ دیکھنا مشکل سمجھتے ہیں، خاص طور پر جب سپلائی مارکیٹ میں زیادہ ہو۔
آنے والے دنوں میں بٹ کوائن کی قیمت کی صورتحال کا انحصار عالمی مالیاتی اثرات، کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی حالت اور سرمایہ کاروں کے رویے پر ہوگا۔ اگرچہ بٹ کوائن کو ایک متبادل سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کی قیمت میں استحکام کے لیے مارکیٹ میں متوازن مانگ و رسد ضروری ہے۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور طویل مدتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk