مائیکل سیلور کی کمپنی نے یورپی مارکیٹ میں اپنی پہلی غیر امریکی مستقل پسندیدہ شیئرز “اسٹریمنگ” جاری کی ہیں جن پر 10 فیصد کا ڈیویڈنڈ آفر کیا گیا ہے، تاہم سرمایہ کاروں کی جانب سے اس آفر کو کم پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یورپی مارکیٹ کی مخصوص ساخت اور رسائی کے مسائل ہیں جو اس سٹریٹیجی کی مکمل اپنانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
مائیکل سیلور، جو کہ بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیز میں سرمایہ کاری کے حوالے سے معروف ہیں، نے اپنی کمپنی کے لیے نئے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے یہ مستقل پسندیدہ شیئرز متعارف کروائے ہیں۔ یہ شیئرز امریکی مارکیٹ میں پہلے سے دستیاب تھے، لیکن یورپی مارکیٹ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کمپنی نے اپنی سرمایہ کاری کی مصنوعات کو متعارف کروایا ہے۔ مستقل پسندیدہ شیئرز عام شیئرز کے مقابلے میں زیادہ مستحکم منافع فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سرمایہ کاروں کی طرف سے عموماً پسند کیا جاتا ہے۔
تاہم، یورپی سرمایہ کاروں کو اس پیشکش سے متعلق کچھ چیلنجز کا سامنا ہے۔ یورپی مالیاتی مارکیٹ کی مختلف ساخت، قانونی پیچیدگیاں، اور مارکیٹ میں رسائی کے مسائل نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ، یورپی سرمایہ کاروں کی جانب سے متبادل سرمایہ کاری کے متنوع مواقع کی دستیابی بھی اس آفر کی کم پذیرائی کی ایک وجہ ہے۔ اس صورتحال میں، کمپنی کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر کے یورپی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ پیشرفت مائیکل سیلور کی کمپنی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے کیونکہ یہ ان کی عالمی سرمایہ کاری کی توسیع کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اگرچہ ابتدائی ردعمل مایوس کن ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل میں اس طرح کی سرمایہ کاری کی مصنوعات کی مانگ نہیں بڑھے گی۔ کمپنی کو چاہیے کہ وہ یورپی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو حاصل کرنے کے لیے مزید شفافیت اور آسان رسائی فراہم کرے تاکہ وہ اس نئے مالیاتی آلے کو موثر طریقے سے مارکیٹ میں متعارف کروا سکے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk