مشہور ٹیک سرمایہ کار کیتھی ووڈ نے حال ہی میں جاری مالیاتی منظرنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کا شعبہ کسی بلبلا کی شکل میں نہیں ہے، بلکہ اصل بلبلا سونا ہے۔ کیتھی ووڈ، جو آرک انویسٹ کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، نے سرمایہ کاری کی دنیا میں اس وقت جاری تجارتی رجحانات اور اثاثہ مارکیٹوں کی صورتحال پر روشنی ڈالی۔
گذشتہ چند سالوں میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کی توجہ اور سرمایہ کاری کو بڑھایا ہے۔ اس کے برعکس، سونا روایتی طور پر سرمایہ کاروں کے لئے ایک محفوظ پناہ گزین سمجھا جاتا ہے، جو اقتصادی بے یقینی یا افراط زر کے دوران اپنی قدر برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، کیتھی ووڈ کا ماننا ہے کہ موجودہ دور میں سونے کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ وہ ایک بلبلا کی صورت اختیار کر گئی ہیں، جس کا مستقبل میں تصحیح کا خطرہ موجود ہے۔
آرک انویسٹ ایک معروف سرمایہ کاری کمپنی ہے جو ٹیکنالوجی اور انوویشن پر مبنی اثاثوں میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔ کیتھی ووڈ کی رائے مارکیٹ کے ایک حصے کے لئے خاصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہ نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری کے رحجانات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کی قدر مستقبل میں مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ سونے میں موجودہ قیمتوں کا استحکام خطرے میں ہے۔
سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجوہات میں عالمی مالیاتی عدم استحکام، افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرحیں، اور جیو پولیٹیکل خطرات شامل ہیں۔ لیکن اگر یہ قیمتیں اپنی حقیقی قدر سے زیادہ بڑھ گئی ہیں تو سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ بلبلا پھٹنے کی صورت میں مارکیٹ میں اچانک مندی آ سکتی ہے۔
مستقبل میں مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے، سرمایہ کاروں کو متنوع پورٹ فولیو بنانے اور ممکنہ مالیاتی خطرات سے بچاؤ کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ کیتھی ووڈ کی یہ بصیرت سرمایہ کاری کے موجودہ رجحانات کو سمجھنے اور بہتر فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: decrypt