سونے کی قیمت میں تیزی سے اضافے نے اسے ایک دن میں پانچ ہزار پانچ سو ڈالر سے تجاوز کروا دیا ہے، جبکہ مارکیٹ میں اس کی طلب کو ظاہر کرنے والے جذبات “انتہائی لالچ” کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ اس دوران بٹ کوائن کی قیمت نوے ہزار ڈالر کی حد سے نیچے مستحکم رہی، جو مالیاتی مارکیٹ میں ایک واضح تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے۔
سونا ایک قدیم اور محفوظ سرمایہ کاری کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب مالیاتی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ ہو۔ حالیہ دنوں میں، عالمی معیشت میں غیر یقینی صورت حال اور افراط زر کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو سونے کی جانب راغب کیا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس، بٹ کوائن جیسی کرپٹو کرنسیز میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، جو ابھی بھی مارکیٹ میں مکمل استحکام حاصل نہیں کر پائی ہیں۔
بٹ کوائن، جو کہ ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے اور دنیا بھر میں سرمایہ کاری اور لین دین کے لیے مقبول ہو رہی ہے، نے حال ہی میں اپنی قیمت میں استحکام دکھایا ہے، لیکن اس کی مارکیٹ کیپ سونے کے مقابلے میں کمزور رہی ہے۔ سونے کی مارکیٹ کیپ بٹ کوائن کے برابر اضافے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی طلب میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کار اس محفوظ اثاثے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اگر یہ رجحان جاری رہا تو مالیاتی مارکیٹس میں سرمایہ کاری کے متوازن مواقع اور خطرات کا جائزہ لینا ضروری ہو جائے گا۔ سونے کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ بٹ کوائن کی قیمت میں استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا ہوگا اور اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: coindesk