ڈیجیٹل کرنسیز کی دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت میں، گوٹ نیٹ ورک نے اپنے GOAT BitVM2 Testnet V3 کا باضابطہ آغاز کیا ہے۔ یہ ٹیسٹ نیٹ BitVM2 ٹیکنالوجی کو بطور حتمی فیصلہ ساز پرت استعمال کرتا ہے، جس کا مقصد بٹ کوائن کو مالیاتی سرگرمیوں میں شامل کرنا ہے بغیر کسی ذاتی نگرانی، کمیٹی یا کثیر دستخطی اعتماد پر منحصر ہوئے۔ اس کا بنیادی ڈھانچہ زیرو-نالج ویلیڈیٹی پروفز پر مبنی ہے جو عمل درآمد کی درستگی کو یقینی بناتا ہے، اور نتائج کو بٹ کوائن مین نیٹ پر منسلک کرتا ہے، جبکہ نکالنے اور تنازعات کا فیصلہ بالآخر بٹ کوائن مین نیٹ کے قواعد کے تحت ہوتا ہے۔
Testnet V3 میں کئی اہم اصلاحات شامل کی گئی ہیں جن میں آف چین عمل درآمد، بٹ کوائن پر مبنی ترتیب کاری، اور بٹ کوائن کی منظوری سے نکالنے اور تنازعہ حل کرنے کا میکانزم شامل ہے۔ مستقبل میں، BitVM2-GC کو متعارف کرایا جائے گا جو چیلنج کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کرے گا، جس سے سیکیورٹی مفروضے عملی طور پر تصدیق کے قابل بن جائیں گے۔ اس کے علاوہ، گوٹ نیٹ ورک نے اپنا مکمل ٹیکنالوجی اسٹیک تیار کیا ہے جس میں Type-1 zkEVM، ایک غیر مرکزی سیکوئنسر، اور اپنی ملکیتی zkVM پروف انجن، Ziren شامل ہیں۔
بٹ کوائن کی مقبولیت اور اس کے محفوظ نیٹ ورک کی بدولت، اس طرح کی ٹیکنالوجیز ڈی سینٹرلائزڈ فنانس کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ zkRollup ٹیکنالوجی، جو کم لاگت اور تیز تر لین دین کی اجازت دیتی ہے، بلاک چین کی توسیع پذیری کے مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے۔ گوٹ نیٹ ورک کا یہ اقدام بٹ کوائن کی مالیاتی دنیا میں مزید شمولیت اور استعمال کو بڑھاوا دے گا۔
مستقبل میں، اگر یہ ٹیسٹ نیٹ کامیاب ہوا تو اس سے بٹ کوائن کے نیٹ ورک پر مبنی فنانشل اپلیکیشنز کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین کو زیادہ محفوظ، تیز، اور کم خرچ مالیاتی خدمات میسر آئیں گی۔ تاہم، اس قسم کی نئی ٹیکنالوجیز میں حفاظتی اور تکنیکی چیلنجز بھی ہوتے ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہوگا۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance