جرمن مالیاتی وزیر لارز کلنگ بائل نے واضح کیا ہے کہ جرمنی اپنی پوزیشن میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھتا جو یورپی یونین کے مشترکہ قرض کے معاملے سے متعلق ہے۔ انہوں نے چانسلر فریڈرک مرز کی حمایت کرتے ہوئے حالیہ تجویز کردہ یورپی ممالک کے مشترکہ قرض لینے کے منصوبوں کو مسترد کیا۔ اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرمنی مالیاتی احتیاط اور ذمہ داری کو ترجیح دیتا ہے اور یورپی یونین کے اندر مشترکہ مالی ذمہ داریوں کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
یورپی یونین میں مشترکہ قرض کے موضوع پر کافی بحث رہی ہے، جہاں کچھ رکن ممالک نے اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے زیادہ تعاون پر مبنی مالی حکمت عملیوں کی حمایت کی ہے۔ مشترکہ قرض کے ذریعے، یورپی ممالک مل کر قرض لیتے اور اس کے بوجھ کو مشترکہ کرتے، جس سے مالی استحکام اور ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم، جرمنی نے اس خیال کی مخالفت کی ہے اور قومی مالیاتی پالیسیوں کو اولین ترجیح دی ہے۔
جرمنی کی یہ پوزیشن یورپی مالیاتی اتحاد میں ایک اہم نکتہ نظر کی نمائندگی کرتی ہے، جس میں مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور قرض کے اضافے سے بچنا شامل ہے۔ اس انداز کو جرمنی کی مضبوط معیشت اور مالیاتی استحکام کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ یورپی یونین کے دیگر ممالک کے ساتھ اس نوعیت کے اختلافات مستقبل میں مالیاتی تعاون پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور یورپی یونین کے مالیاتی مستقبل کے حوالے سے اہم چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔
جن ممالک نے مشترکہ قرض کی حمایت کی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے اقتصادی بحرانوں کا مقابلہ بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر موجودہ عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر۔ تاہم جرمنی کا موقف یہ ہے کہ مشترکہ قرض سے ملک کی مالی خودمختاری اور مالیاتی نظم و ضبط متاثر ہو سکتی ہے، جو اس کے لیے ناقابل قبول ہے۔
یہ خبر تفصیل سے یہاں پڑھی جا سکتی ہے: binance